تلنگانہ

عادل آباد میں اشتعال انگیز پوسٹس پر واٹس ایپ گروپ ایڈمن سمیت 3 افراد کے خلاف مقدمہ درج

پولیس کے مطابق، دونوں ارکان پر متنازع مواد شیئر کرنے کا الزام ہے، جبکہ گروپ ایڈمن پر یہ الزام عائد کیا گیا ہے کہ انہوں نے ایسے پیغامات کو بروقت حذف کرنے یا ان کی تشہیر روکنے کے لیے کوئی مؤثر اقدام نہیں کیا۔

حیدرآباد: تلنگانہ کے ضلع عادل آباد میں پولیس نے سوشل میڈیا پر مبینہ طور پر اشتعال انگیز مواد شیئر کرنے اور اس کی روک تھام میں ناکامی پر ایک واٹس ایپ گروپ ایڈمن سمیت تین افراد کے خلاف مقدمہ درج کر لیا ہے۔

عادل آباد پولیس کی جانب سے جاری کردہ بیان کے مطابق، ون ٹاؤن پولیس اسٹیشن میں واٹس ایپ گروپ "Adilabad Times” کے ایڈمن وینو گوپال یادو اور گروپ کے دو ارکان راتھوڈ گجانن اور بنداری سنتوش کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا ہے۔

پولیس کا کہنا ہے کہ گروپ میں ایسے قابلِ اعتراض اور اشتعال انگیز پیغامات شیئر کیے گئے، جو عوام کو مشتعل کرنے، خوف و ہراس پھیلانے اور امن و امان کی صورتحال کو متاثر کرنے کی صلاحیت رکھتے تھے۔

پولیس کے مطابق، دونوں ارکان پر متنازع مواد شیئر کرنے کا الزام ہے، جبکہ گروپ ایڈمن پر یہ الزام عائد کیا گیا ہے کہ انہوں نے ایسے پیغامات کو بروقت حذف کرنے یا ان کی تشہیر روکنے کے لیے کوئی مؤثر اقدام نہیں کیا۔

ڈی ایس پی جیون ریڈی نے کہا کہ سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کو غیر قانونی سرگرمیوں یا فرقہ وارانہ کشیدگی اور بدامنی پھیلانے کے لیے استعمال نہیں کیا جانا چاہیے۔

انہوں نے خبردار کیا کہ واٹس ایپ گروپ ایڈمنز کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے گروپس میں ہونے والی سرگرمیوں پر نظر رکھیں اور کسی بھی اشتعال انگیز یا امن عامہ کے لیے خطرہ بننے والی پوسٹ کو فوری طور پر حذف کریں۔

انہوں نے مزید کہا کہ سوشل میڈیا کے ذریعے قانون کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے گی۔

 ڈی ایس پی نے عوام سے بھی اپیل کی کہ اگر انہیں سوشل میڈیا پر کوئی مشکوک یا اشتعال انگیز مواد نظر آئے تو اسے آگے شیئر کرنے کے بجائے فوری طور پر پولیس کو اطلاع دیں تاکہ بروقت کارروائی کی جا سکے۔