حیدرآباد

چیف منسٹر ریونت ریڈی کے امریکی دورے کو منظوری کیوں نہیں ملی؟ مرکز نے وجہ بتادی

دوسری جانب امریکی دورے کو منظوری نہ ملنے کے بعد تلنگانہ میں سیاسی بحث بھی تیز ہوگئی ہے۔ سوال اٹھایا جارہا ہے کہ جب وزیر اعلیٰ کے برطانیہ کے دورے کو منظوری دی گئی تو پھر امریکی دورے کو کیوں روکا گیا۔

حیدرآباد: تلنگانہ کے وزیر اعلیٰ اے ریونت ریڈی کے مجوزہ امریکی دورے کو مرکزی حکومت کی جانب سے سیاسی منظوری نہ ملنے کا معاملہ اب سیاسی حلقوں میں موضوعِ بحث بن گیا ہے۔ ذرائع کے مطابق ریونت ریڈی کے امریکی دورے کے پروگرام میں امریکہ کے نائب صدر جے ڈی وینس اور نیویارک کے میئر زوہرن ممدانی سے ملاقاتیں بھی شامل تھیں، تاہم ان مجوزہ ملاقاتوں کو وزارت خارجہ کے ذریعے سیاسی منظوری کے عمل میں پیش نہیں کیا گیا تھا۔

ذرائع کے مطابق یہی ملاقاتیں امریکی دورے کو منظوری نہ ملنے کی اہم وجوہات میں شامل ہیں۔ تلنگانہ وزیر اعلیٰ کے دفتر نے امریکہ اور برطانیہ دونوں کے دوروں کے لیے وزارت خارجہ سے سیاسی منظوری طلب کی تھی۔ مرکزی حکومت نے برطانیہ کے دورے کو منظوری دے دی، تاہم امریکی دورے کے لیے سیاسی اجازت نہیں دی گئی۔

مرکزی حکومت کے ذرائع کا کہنا ہے کہ امریکی دورے کو منظوری نہ دینے کا فیصلہ کسی سیاسی اختلاف یا تلنگانہ حکومت کے خلاف کارروائی کی بنیاد پر نہیں کیا گیا بلکہ یہ فیصلہ مقررہ طریقہ کار اور تکنیکی وجوہات کی بنیاد پر کیا گیا ہے۔

وزارت خارجہ کے ترجمان رندھیر جیسوال نے بھی واضح کیا کہ وزرائے اعلیٰ اور دیگر اہم شخصیات کے بیرون ملک دوروں کا سیاسی منظوری کے لیے جائزہ لیا جاتا ہے۔ مجوزہ پروگرام کو متعلقہ عہدے کی نوعیت اور دورے کے مقصد کے مطابق مناسب ہونا ضروری ہے۔ ان کے مطابق امریکی دورے کے معاملے میں پیش کیا گیا پروگرام ان تقاضوں کے مطابق نہیں تھا، اسی لیے سیاسی منظوری نہیں دی گئی، جبکہ ریونت ریڈی کے برطانیہ کے دورے کو منظوری دی گئی ہے۔

ذرائع کے مطابق امریکی دورے کے دوران ریونت ریڈی کی کئی اہم ملاقاتیں طے کرنے کی کوشش کی گئی تھی، جن میں اعلیٰ سطحی سیاسی شخصیات سے ملاقاتیں بھی شامل تھیں۔ امریکی نائب صدر جے ڈی وینس سے ملاقات ایک اہم سیاسی رابطہ ہوتی، جبکہ نیویارک کے میئر زوہرن ممدانی سے ملاقات بھی خاصی اہم سمجھی جارہی تھی، کیونکہ وہ امریکی سیاست میں تیزی سے نمایاں ہونے والی شخصیت ہیں۔

مرکزی حکومت کا مؤقف ہے کہ بیرون ملک کسی بھی سرکاری دورے کے دوران اہم سیاسی یا سرکاری شخصیات سے ملاقاتوں پر مشتمل پروگرام کو پہلے وزارت خارجہ کے مقررہ طریقہ کار کے تحت پیش کیا جانا ضروری ہے۔ ذرائع کا دعویٰ ہے کہ ریونت ریڈی کے دفتر کی جانب سے مجوزہ ملاقاتوں کے لیے متعلقہ امریکی حکام سے رابطہ کیا گیا، تاہم ان ملاقاتوں کے بارے میں وزارت خارجہ سے پیشگی بات چیت نہیں کی گئی۔

ریونت ریڈی کا مجوزہ امریکی دورہ تلگو برادری کے لحاظ سے بھی اہم سمجھا جارہا تھا۔ امریکہ میں تلگو زبان بولنے والی بھارتی نژاد آبادی کی بڑی تعداد موجود ہے اور یہ امریکہ کی تیزی سے بڑھنے والی علاقائی بھارتی برادریوں میں شمار ہوتی ہے۔ تلنگانہ حکومت کی جانب سے امریکی دورے کو سرمایہ کاری، تعلیم، ٹیکنالوجی اور بیرون ملک مقیم تلگو برادری سے رابطے کے حوالے سے اہم قرار دیا جارہا تھا۔

دوسری جانب امریکی دورے کو منظوری نہ ملنے کے بعد تلنگانہ میں سیاسی بحث بھی تیز ہوگئی ہے۔ سوال اٹھایا جارہا ہے کہ جب وزیر اعلیٰ کے برطانیہ کے دورے کو منظوری دی گئی تو پھر امریکی دورے کو کیوں روکا گیا۔ تاہم مرکزی حکومت کے عہدیداروں کا کہنا ہے کہ اس فیصلے میں کسی قسم کا سیاسی انتقام شامل نہیں ہے اور اصل مسئلہ امریکی دورے کے مجوزہ پروگرام کو وزارت خارجہ کے مقررہ طریقہ کار کے مطابق پیش نہ کیے جانے کا ہے۔

تلنگانہ حکومت کی جانب سے اب تک ریونت ریڈی کے مجوزہ امریکی دورے کا مکمل پروگرام عوامی طور پر جاری نہیں کیا گیا ہے۔ فی الحال مرکز نے ریونت ریڈی کے برطانیہ کے دورے کو منظوری دی ہے، جبکہ امریکی دورے کو سیاسی منظوری نہیں ملی۔ جے ڈی وینس اور زوہرن ممدانی سے مجوزہ ملاقاتوں کا معاملہ اس فیصلے کی اہم وجوہات میں شمار کیا جارہا ہے، تاہم امریکی دورے کے مکمل پروگرام اور مجوزہ ملاقاتوں کی حتمی تفصیلات سامنے آنا ابھی باقی ہیں۔