حیدرآباد

فوٹو جرنلسٹس اخبارات کی جان، تاریخ کے محافظ ہیں: کے. سرینواس ریڈی

میڈیا اکیڈمی کے چیئرمین نے ماضی میں ممتاز شخصیات کے نام سے دیے جانے والے فوٹوگرافی ایوارڈز دوبارہ شروع کرنے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ فوٹو جرنلزم کے فروغ کے لیے میڈیا اکیڈمی کی جانب سے خصوصی پروگرام منعقد کیے جانے چاہئیں۔

حیدرآباد: تلنگانہ میڈیا اکیڈمی کے چیئرمین کے. سرینواس ریڈی نے کہا ہے کہ فوٹو جرنلسٹس اخبارات کی جان ہوتے ہیں اور ان کی کھینچی ہوئی تصاویر اہم واقعات کو محفوظ رکھنے کے ساتھ ساتھ آنے والی نسلوں تک تاریخ پہنچانے میں اہم کردار ادا کرتی ہیں۔

وہ چہارشنبہ کے روز بشیر باغ، حیدرآباد کے دیشودھارک بھون میں تلنگانہ اسٹیٹ فوٹو جرنلسٹس ایسوسی ایشن (TSPJA) کے زیر اہتمام منعقدہ 187ویں عالمی یومِ فوٹوگرافی کی تقریب سے خطاب کر رہے تھے۔ اس موقع پر ’بیسٹ نیوز فوٹو مقابلہ 2026‘ اور فوٹو نمائش کا بھی اہتمام کیا گیا۔

کے. سرینواس ریڈی نے کہا کہ ایک تصویر ہزار الفاظ کے برابر ہوتی ہے۔ ان کے مطابق فوٹو جرنلسٹ صرف کیمرہ چلانے والا شخص نہیں بلکہ وہ ایک ایسا مورخ ہے جو اپنے کیمرے کے ذریعے اپنے دور کے اہم واقعات کو محفوظ کرتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ فوٹو جرنلسٹس قدرتی آفات، حادثات، سیاسی واقعات، سماجی تحریکوں، عوامی مسائل، غریبوں کی مشکلات اور کامیابی کی کہانیوں کو اپنی تصاویر کے ذریعے عوام کے سامنے لاتے ہیں۔ کئی مواقع پر فوٹو جرنلسٹس اپنی جان کی پرواہ کیے بغیر جائے وقوعہ پر پہنچ کر حالات کی حقیقی تصویر دنیا کے سامنے پیش کرتے ہیں۔

میڈیا اکیڈمی کے چیئرمین نے ماضی میں ممتاز شخصیات کے نام سے دیے جانے والے فوٹوگرافی ایوارڈز دوبارہ شروع کرنے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ فوٹو جرنلزم کے فروغ کے لیے میڈیا اکیڈمی کی جانب سے خصوصی پروگرام منعقد کیے جانے چاہئیں۔

اس موقع پر ریاستی محکمہ اطلاعات کے کمشنر جی. مکند ریڈی نے کہا کہ ایک بہترین تصویر سماج کو سوچنے پر مجبور کرسکتی ہے اور عوامی مسائل کے حل کے لیے عہدیداروں کو فوری کارروائی پر آمادہ کرسکتی ہے۔

انہوں نے بتایا کہ صحافیوں کے مکانات کے پٹوں، ہیلتھ کارڈز اور ایوارڈز سے متعلق امور پر حکومت مثبت انداز میں غور کر رہی ہے۔ صحافیوں کے مکانات کے پٹوں سے متعلق رجسٹریشن اور ہاؤسنگ سوسائٹی کے معاملات کا جائزہ میڈیا اکیڈمی کے ذریعے لے کر حکومت کے علم میں لایا گیا ہے۔

مکند ریڈی نے کہا کہ مکانات کے پٹوں کا معاملہ حکومت کی پالیسی سے متعلق ہے اور حکومت کی جانب سے فیصلہ آنے کے بعد مرحلہ وار کارروائی کی جائے گی۔ انہوں نے مزید بتایا کہ صحافیوں کو اسی ماہ ہیلتھ کارڈز فراہم کیے جانے کا امکان ہے۔

تقریب میں TSPJA کے جنرل سکریٹری کے. این. ہری، نائب صدور پی. رام مورتی اور ٹی. کشور سنگھ، خازن کے. انیل کمار، ایگزیکٹو ممبران ایم. اے. سرور، جی. وسنت کمار، این. شیواکمار، محمد علیم الدین، اے. مہیش اور دیگر موجود تھے۔

سینئر فوٹو جرنلسٹ اور TSPJA کے ایگزیکٹو ممبر محمد علیم الدین نے بھی تقریب میں شرکت کی۔ اس کے علاوہ محمد سرور، ہندی مِلّاپ سمیت متعدد صحافیوں اور فوٹو جرنلسٹس نے شرکت کی۔