بی آر ایس رکن اسمبلی سنیتا لکشما ریڈی سے پولیس کی مبینہ بدسلوکی، ساڑی کھینچنے کا الزام
تفصیلات کے مطابق بی آر ایس کے ارکان اسمبلی کانگریس حکومت کی مبینہ ’’1000 دن کی ناکام حکمرانی‘‘ کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے گن پارک سے اسمبلی کی جانب مارچ کر رہے تھے۔ پولیس نے احتجاجی ارکان کو اسمبلی کی طرف بڑھنے سے روکنے کی کوشش کی۔
حیدرآباد: تلنگانہ اسمبلی کے احاطے میں بی آر ایس کی خاتون ارکان اسمبلی کے احتجاج کے دوران کشیدگی پیدا ہوگئی، جہاں بی آر ایس رکن اسمبلی سنیتا لکشما ریڈی نے پولیس پر مبینہ طور پر بدسلوکی اور ان کی ساڑی کھینچنے کا الزام عائد کیا ہے۔
تفصیلات کے مطابق بی آر ایس کے ارکان اسمبلی کانگریس حکومت کی مبینہ ’’1000 دن کی ناکام حکمرانی‘‘ کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے گن پارک سے اسمبلی کی جانب مارچ کر رہے تھے۔ پولیس نے احتجاجی ارکان کو اسمبلی کی طرف بڑھنے سے روکنے کی کوشش کی۔
اسی دوران مبینہ طور پر پولیس اور بی آر ایس ارکان اسمبلی کے درمیان دھکم پیل ہوئی۔ سنیتا لکشما ریڈی نے الزام عائد کیا کہ پولیس اہلکاروں نے ان کے ساتھ نامناسب رویہ اختیار کیا اور انہیں روکنے کی کوشش میں ان کی ساڑی کھینچی اور گھسیٹا۔
واقعہ پر اظہارِ افسوس کرتے ہوئے سنیتا لکشما ریڈی نے سوال کیا کہ کیا پولیس اہلکار یہ بھی نہیں پہچانتے کہ احتجاج میں شامل خواتین منتخب ارکان اسمبلی ہیں اور ان کے ساتھ اس قدر بدسلوکی کیوں کی گئی؟
بی آر ایس ارکان اسمبلی نے بھی پولیس کے مبینہ رویے پر شدید برہمی کا اظہار کیا اور الزام عائد کیا کہ خواتین ارکان اسمبلی کے ساتھ ضرورت سے زیادہ طاقت کا استعمال کیا گیا۔
بی آر ایس رہنماؤں نے یہ بھی سوال اٹھایا کہ سیاہ لباس پہن کر اسمبلی جانے میں آخر کیا غلط ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ سیاہ لباس احتجاج کی علامت کے طور پر پہنا گیا تھا اور اس بنیاد پر منتخب نمائندوں کو روکنے کا جواز نہیں بنتا۔
واقعہ کے بعد بی آر ایس نے پولیس کے رویے پر سخت اعتراض کرتے ہوئے ذمہ دار اہلکاروں کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔ معاملہ سیاسی طور پر بھی موضوعِ بحث بن گیا ہے اور بی آر ایس نے کانگریس حکومت پر منتخب نمائندوں کے ساتھ نامناسب سلوک کی اجازت دینے کا الزام عائد کیا ہے۔