حیدرآباد

اسمبلی کے مرکزی گیٹ پر کشیدگی، کے ٹی آر سمیت بی آر ایس ارکان گرفتار

پولیس نے اسمبلی کے مرکزی گیٹ پر بی آر ایس ارکان کو روک کر سیاہ لباس میں داخلے پر اعتراض کیا۔ اس دوران پولیس اور بی آر ایس ارکان کے درمیان گرما گرم بحث ہوئی، جس کے باعث اسمبلی کے داخلی راستے پر صورتحال کشیدہ ہوگئی۔

حیدرآباد: تلنگانہ اسمبلی کے مرکزی گیٹ پر اس وقت کشیدگی پیدا ہوگئی جب پولیس نے سیاہ ٹی شرٹس پہن کر اسمبلی میں داخل ہونے والے بی آر ایس ارکان اسمبلی اور ارکان قانون ساز کونسل کو روک دیا۔

اطلاعات کے مطابق بی آر ایس کے ورکنگ پریسیڈنٹ اور سابق وزیر کے ٹی راما راؤ (کے ٹی آر) سمیت پارٹی کے کئی ارکان اسمبلی اور ایم ایل سیز احتجاج کے طور پر سیاہ ٹی شرٹس پہن کر اسمبلی پہنچے تھے۔

پولیس نے اسمبلی کے مرکزی گیٹ پر بی آر ایس ارکان کو روک کر سیاہ لباس میں داخلے پر اعتراض کیا۔ اس دوران پولیس اور بی آر ایس ارکان کے درمیان گرما گرم بحث ہوئی، جس کے باعث اسمبلی کے داخلی راستے پر صورتحال کشیدہ ہوگئی۔

بعد ازاں پولیس نے کے ٹی آر سمیت بی آر ایس کے دیگر ارکان اسمبلی اور ایم ایل سیز کو حراست میں لے لیا اور مبینہ طور پر گرفتار کرلیا۔

بی آر ایس رہنماؤں نے پولیس کارروائی پر شدید اعتراض کرتے ہوئے سوال کیا کہ منتخب نمائندوں کو محض سیاہ ٹی شرٹس پہننے کی وجہ سے اسمبلی میں داخل ہونے سے کیوں روکا جارہا ہے۔ پارٹی کا کہنا ہے کہ سیاہ لباس احتجاج کی علامت کے طور پر پہنا گیا تھا۔

بی آر ایس نے پولیس کارروائی کو اپوزیشن کی آواز دبانے کی کوشش قرار دیتے ہوئے حکومت پر تنقید کی ہے۔ واقعہ کے بعد حکمراں کانگریس اور بی آر ایس کے درمیان سیاسی کشیدگی مزید بڑھ گئی ہے۔

پولیس کی جانب سے حراست میں لیے گئے ارکان کی مکمل تعداد اور واقعہ کے بعد کی صورتحال سے متعلق مزید تفصیلات کا انتظار ہے۔