حیدرآباد

سرکاری اسپتال کے عملے کی مبینہ غفلت، حاملہ خاتون نے ایمبولینس میں بچے کو جنم دیا

خاتون کے اہل خانہ کے مطابق وہ شدید دردِ زہ کی حالت میں ونستھلی پورم کے سرکاری اسپتال پہنچی تھی اور اسے فوری طبی امداد کی ضرورت تھی۔ تاہم، اہل خانہ کا الزام ہے کہ اسپتال کے عملہ اور ڈاکٹروں نے مطلوبہ رپورٹس نہ ہونے کی وجہ بتاتے ہوئے خاتون کو داخل کرنے سے انکار کردیا۔

حیدرآباد: حیدرآباد کے ونستھلی پورم سرکاری اسپتال میں مبینہ غفلت کا ایک معاملہ سامنے آیا ہے، جہاں شدید زچگی کے درد میں مبتلا ایک حاملہ خاتون کو مبینہ طور پر ضروری طبی رپورٹس نہ ہونے کا حوالہ دیتے ہوئے اسپتال سے واپس بھیج دیا گیا۔ بعد ازاں دوسرے اسپتال منتقل کیے جانے کے دوران خاتون نے ایمبولینس میں ہی بچے کو جنم دے دیا۔

خاتون کے اہل خانہ کے مطابق وہ شدید دردِ زہ کی حالت میں ونستھلی پورم کے سرکاری اسپتال پہنچی تھی اور اسے فوری طبی امداد کی ضرورت تھی۔ تاہم، اہل خانہ کا الزام ہے کہ اسپتال کے عملہ اور ڈاکٹروں نے مطلوبہ رپورٹس نہ ہونے کی وجہ بتاتے ہوئے خاتون کو داخل کرنے سے انکار کردیا۔

اس کے بعد اہل خانہ کو خاتون کو دوسرے اسپتال منتقل کرنے پر مجبور ہونا پڑا۔ ایمبولینس کے ذریعے منتقلی کے دوران ہی خاتون کو زچگی ہوگئی اور اس نے گاڑی میں ہی بچے کو جنم دے دیا۔

واقعہ پر خاتون کے اہل خانہ نے شدید برہمی کا اظہار کرتے ہوئے سوال اٹھایا کہ شدید دردِ زہ میں مبتلا خاتون کو ہنگامی طبی خدمات فراہم کیے بغیر واپس کیسے بھیجا جاسکتا ہے۔

اہل خانہ نے کہا کہ اگر ایمبولینس میں منتقلی کے دوران کوئی پیچیدگی پیش آجاتی اور ماں یا نومولود کی جان کو خطرہ لاحق ہوجاتا تو اس کی ذمہ داری کون لیتا؟ انہوں نے اسپتال انتظامیہ سے واقعہ کی مکمل تحقیقات اور ذمہ دار افراد کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔

واقعہ نے سرکاری اسپتالوں میں ہنگامی زچگی کی خدمات اور مریضوں کو فوری طبی امداد فراہم کرنے کے طریقہ کار پر بھی سوالات کھڑے کردیئے ہیں۔

متعلقہ حکام سے توقع کی جارہی ہے کہ وہ معاملے کی تحقیقات کرتے ہوئے یہ معلوم کریں گے کہ آیا اسپتال میں طبی خدمات کی فراہمی میں کوئی غفلت یا کوتاہی ہوئی ہے۔ ماں اور نومولود کی صحت سے متعلق مزید تفصیلات کا انتظار ہے۔