تلنگانہ

تلنگانہ میں دسویں جماعت کے امتحانات کا آغاز، پانچ لاکھ سے زائد طلبہ شریک

محکمہ تعلیم کے مطابق گزشتہ سال کی طرح اس بار بھی طلبہ کو پانچ منٹ کی رعایت دی گئی ہے۔ یعنی صبح 9 بج کر 35 منٹ تک آنے والے طلبہ کو ہی امتحانی ہال میں داخلے کی اجازت دی جائے گی۔

حیدرآباد: تلنگانہ میں دسویں جماعت کے سالانہ SSC پبلک امتحانات 2026 کا آج سے باقاعدہ آغاز ہو گیا ہے۔ ریاست بھر میں امتحانات کے لیے 2,676 امتحانی مراکز قائم کیے گئے ہیں۔

متعلقہ خبریں
آئی ویژن یوتھ پارلیمنٹ میں گورنمنٹ بوائز ہائی اسکول مغل پورہ نمبر 2 کے طلبہ کا شاندار مظاہرہ
گولکنڈہ قلعہ کے ممنوعہ اراضی کے تحفظ کے لیے اے ایس آئی کو نمائندگی
ٹولی چوکی میں جلسہ یومُ الفرقان کا انعقاد
وزیر اعلیٰ تلنگانہ نے تلنگانہ قانون ساز کونسل کے نئے ہال کا افتتاح کیا۔ خواتین کو عالمی دن کی مبارکباد
محبوب نگر میں جامع مسجد میں دعوتِ افطار، مسلم کارپوریٹرس کی تہنیتی تقریب میں رکن اسمبلی اینم سرینواس ریڈی کی شرکت

طلبہ عام کپڑوں میں، اپنے ساتھ امتحانی پیڈ، قلم اور دیگر ضروری اسٹیشنری لے کر امتحانی مراکز پہنچے۔ صبح جلد پہنچنے والے طلبہ کو 8 بج کر 30 منٹ سے ہی امتحانی مراکز میں داخل ہونے کی اجازت دے دی گئی تھی۔

محکمہ تعلیم کے مطابق گزشتہ سال کی طرح اس بار بھی طلبہ کو پانچ منٹ کی رعایت دی گئی ہے۔ یعنی صبح 9 بج کر 35 منٹ تک آنے والے طلبہ کو ہی امتحانی ہال میں داخلے کی اجازت دی جائے گی۔

اس سال امتحانات کے لیے کل 5 لاکھ 28 ہزار 239 طلبہ نے رجسٹریشن کروایا ہے، جن میں 2 لاکھ 67 ہزار 954 لڑکے اور 2 لاکھ 60 ہزار 285 لڑکیاں شامل ہیں۔

یہ امتحانات 16 اپریل تک جاری رہیں گے۔ امتحانات کو شفاف اور پرامن طریقے سے منعقد کرنے کے لیے محکمہ تعلیم نے 144 فلائنگ اسکواڈ بھی تعینات کیے ہیں جو مختلف امتحانی مراکز کا اچانک معائنہ کریں گے اور نقل یا کسی بھی بدعنوانی کو روکیں گے۔

حکام کے مطابق طلبہ کو اپنی اسکول یونیفارم پہن کر آنے کی اجازت نہیں دی گئی تاکہ کسی بھی اسکول کی شناخت ظاہر نہ ہو سکے۔

اسی طرح امتحانی مراکز میں موبائل فون، کیلکولیٹر، اسمارٹ واچ یا دیگر الیکٹرانک آلات لانے پر مکمل پابندی عائد کی گئی ہے۔

طلبہ کو صرف ہال ٹکٹ، امتحانی پیڈ، قلم، پنسل، اسکیل، شارپنر، ربڑ اور جیومیٹری کے آلات ساتھ لانے کی اجازت دی گئی ہے۔ امتحانی مراکز کے داخلی دروازوں پر طلبہ کے ذاتی سامان اور الیکٹرانک آلات محفوظ رکھنے کے لیے مفت انتظامات بھی کیے گئے ہیں۔