حیدرآباد

ناگرجنا ساگر ڈیم کی مکمل سیکوریٹی اب آندھرا پردیش فورسس کے ہاتھ میں چلی گئی

تلنگانہ فورسس کو واپس طلب کرنے کیلئے مُلگ بٹالین کی جانب سے احکامات جاری کئے گئے تھے، جس کے بعد ریلیونگ آرڈرس حاصل کرکے تلنگانہ کی فورسس ناگرجنا ساگر سے واپس چلی گئیں۔

حیدرآباد: ناگرجنا ساگر ڈیم کی مکمل سیکوریٹی اب آندھرا پردیش فورسس کے ہاتھ میں چلی گئی کیونکہ تلنگانہ ریاست کی حدود میں موجود ناگرجنا ساگر ڈیم کے 13 گیٹس کی سیکوریٹی کی نگرانی کرنے والی فورسس منگل کی شام سے اپنی ڈیوٹی سے دستبردار ہوگئیں۔

متعلقہ خبریں
مدرسہ صفۃ المسلمین ناچارم ولیج کا 14واں عظیم الشان اجلاسِ عام منعقد، فضائلِ قرآن پر خطابات، حفاظ کی دستاربندی
غریبوں کو مکانات نہ ملنے پر آواز تنظیم کا کلکٹر سے رجوع
چنچل گوڑہ میں شبِ برات کے موقع پر مرکزی جلسہ تحفظِ ناموسِ رسالت ﷺ، 3 فروری کو انعقاد
اقراء مشن ہائی اسکول اینڈ جونیئر کالج، کے ۴۰ سالہ ‘روبی جوبلی’ جشن کا شاندار انعقاد
اولیاء اللہ کے آستانے امن و سلامتی، یکجہتی اور بھائی چارہ کے مراکز،ہنری مارٹن انسٹیٹیوٹ کے غیر ملکی طلباء کا دورہ درگاہ حضرت برہنہ شاہؒ

تلنگانہ فورسس کو واپس طلب کرنے کیلئے مُلگ بٹالین کی جانب سے احکامات جاری کئے گئے تھے، جس کے بعد ریلیونگ آرڈرس حاصل کرکے تلنگانہ کی فورسس ناگرجنا ساگر سے واپس چلی گئیں۔

اس کے بعد ڈیم کی سیکوریٹی کی مکمل نگرانی اے پی فورسس نے اپنے کنٹرول میں لے لی۔30نومبر2023کی نصف شب کو ڈیم کے انتظام سے متعلق دونوں ریاستوں کے درمیان تنازعہ پیدا ہوا تھا، جس کے بعد پچھلے ڈیڑھ سال سے وشاکھا پٹنم کی 234 ویں بٹالین کی سی آر پی ایف فورسس اے پی کی جانب موجود 13 گیٹس کی نگرانی کر رہی تھیں۔

جبکہ تلنگانہ کی جانب موجود 13 گیٹس کی نگرانی ملگ کی 39 ویں بٹالین کی سی آر پی ایف فورسس کر رہی تھیں۔ اب جبکہ تلنگانہ کی فورسس اپنی ڈیوٹی سے دستبردار ہوچکی ہیں، تو پوری ذمہ داری اے پی کی فورسس نے سنبھال لی ہے۔