تلنگانہ

میٹرو ریل کو شاد نگر تک توسیع دینے کا تیقن: کے سی آر

چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ نے کہاکہ بی آر ایس کی جانب سے تیسری بار حکومت بنانے کے بعد میٹرو ریل کو شاد نگر تک توسیع دی جائے گی۔

حیدرآباد: چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ نے کہاکہ بی آر ایس کی جانب سے تیسری بار حکومت بنانے کے بعد میٹرو ریل کو شاد نگر تک توسیع دی جائے گی۔

متعلقہ خبریں
تلنگانہ کی تباہی کیلئے کے سی آر اور ان کا خاندان ذمہ دار: ریونت ریڈی
کے سی آر بطور رکن اسمبلی حلف لیں گے
عوام میں کے سی آر کی عزت ہنوز برقرار: کے ٹی آر
پولیس نے عوام کو کے سی آر سے ملاقات کی اجازت نہیں دی
کے سی آر پر شکست کا خوف طاری: شرمیلا

آج حلقہ اسمبلی شاد نگر میں منعقد ہ انتخابی جلسہ سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ میٹرو ریل کو شادنگر تک توسیع دینے سے زمینوں کی قیمتوں میں ناقابل یقین حد تک اضافہ ہوگا اور زمین مالکین دولت مند ہوجائیں گے۔

پارٹی امیدوار انجیا یادو کو انتہائی ملنسار اور شریف النفس شخص قرار دیتے ہوئے کے سی آر نے کہاکہ ایسا عوامی امیدوار قسمت سے ملتا ہے اس لیے میں شاد نگر کے عوام سے اپیل کررہاہوں کہ غریب پرور انجیا یادو کو اپنا نمائندہ بناکر اسمبلی میں روانہ کریں۔

کے سی آر نے کہاکہ شاد نگر‘ شہر کے مضافات میں واقع ہے ان کی مسلسل نمائندگی سے شاد نگر تک میٹر و ریل کو توسیع کرنے کافیصلہ کیاگیا۔ اب ان کی خواہش ہے کہ شاد نگر میں ایک میڈیکل کالج قائم کیا جائے۔ میں آپ لوگوں کو تیقن دے رہاہوں کہ شاد نگر کے لیے ایک پی جی اور میڈیکل کالج منظور کیا جائے گا۔

شاد نگر کو میٹرو ریل سے مربوط کرنے کے بعد یہاں ترقی کے عمل کو عروج حاصل ہوگا۔ بے شمار تعلیمی اور تجارتی ادارے شاد نگر کا رخ کریں گے۔ شاد نگر کے ڈیمانڈ میں اضافہ ہوگا۔ کے سی آر نے کہاکہ کانگریس قائدین نے نصف صدی سے زیادہ عرصہ زبانی جمع خرچ میں گزار دیا۔ عوام کا ہر طریقہ سے استحصال کیاگیا۔

کوئی ترقیاتی کام انجام نہیں دیئے۔ تشکیل تلنگانہ کے بعد جب بی آر ایس حکومت نے ایک کے بعد دیگر ترقیاتی کاموں کی انجام دہی کا آغاز کیا تو کانگریس نے تعاون کے بجائے مقدمات درج کراتے ہوئے رکاوٹیں کھڑی کی تھیں۔ کے سی آر نے کہاکہ اگر تلنگانہ کا قیام 2004 میں ہوگیا ہوتا تو سینکڑوں نوجوانوں کی جان بچ جاتی مگر کانگریس نے ایسا نہیں کیا۔

اب جبکہ تشکیل تلنگانہ کے بعد ریاست ترقی اور خوشحالی کی سمت گامزن ہے۔ کانگریس کو خوشحال تلنگانہ سماج ہضم نہیں ہورہاہے‘جہاں 24 گھنٹہ مسلسل برقی سربراہ کی جارہی ہے وہاں تین گھنٹہ برقی برقی سربراہی کو کافی قرار دیا جارہاہے۔ کے سی آر نے کہاکہ اگر عوام کانگریس کی باتوں میں آجائیں گے تو پھر ان کا مستقبل تاریک کردیاجائے گا۔

اسی لیے کانگریس سے چوکس و چوکنا رہتے ہوئے بی آر ایس کو کامیابی سے ہمکنار کریں۔ بعدازاں حلقہ اسمبلی چیوڑلہ میں انتخابی جلسہ سے خطاب کرتے ہوئے کے سی آر نے کہاکہ بی آر ایس کی دوبارہ حکومت بنتے ہی اندرون دوماہ جی او نمبر 111 کے مسئلہ کو حل کردیاجائے گا۔

انہوں نے مزید کہاکہ حکومت کی کاوشوں سے چیوڑلہ برق رفتار ی سے ترقی کی سمت گامزن ہے۔ بڑی بڑی ملٹی نیشنل کمپنیاں یہاں اپنے مراکز قائم کررہی ہیں۔ اس کے علاوہ چیوڑلہ کو سرسبز و شاداب بنانے کے لیے پالمورو رنگاریڈی لفٹ اریگیشن پروجکٹ کے ذریعہ پانی لایاجارہاہے۔

کے سی آر نے کہاکہ 3 دسمبر کو انتخابی نتائج کے اعلان کے بعد منعقد ہونے والے پہلے کابینہ اجلاس میں آسائنڈ اراضیات کے پٹوں کی تقسیم کے متعلق فیصلہ کیاجائے گا۔ کسانوں سے فصلوں کی خریداری کے لیے 7500 خریداری مراکز قائم کئے جائیں گے۔

انہوں نے کہاکہ موجودہ تمام اسکیموں کو جاری رکھتے ہوئے ان اسکیموں کے تحت دی جارہی رقم میں اضافہ کیاجائے گا۔ حلقہ اسمبلی چیوڑلہ کے دلت عوام کو ایک ہی مرحلہ میں دلت بندھو اسکیم سے مستفید کیاجائے گا۔ کے سی آر نے کہاکہ عوام دشمن کانگریس کی طاقت صرف 3دسمبر تک ہی رہے گی۔ ایک بار نتائج کے اعلان کے بعد کانگریس کے وجود پر سوالیہ نشان لگ جائے گا۔ 6دسمبر سے بی آر ایس حکومت تمام فلاحی اسکیمات پر حسب وعدہ عمل کرتی رہے گی۔