دہلی

ہندوؤں کی آبادی میں کمی کے لئے کانگریس ذمہ دار: بی جے پی

رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا کہ جین برادری کی آبادی جو 1950 میں 0.45 فیصد تھی‘ 2015 میں گھٹ کر 0.36 فیصد ہوگئی۔ لوک سبھا انتخابات کے چوتھے مرحلہ سے قبل یہ رپورٹ منظرعام پر آئی ہے۔

نئی دہلی: بی جے پی نے 1950سے 2015 ء تک ہندوؤں کی آبادی میں 7.82 فیصد کی کمی کے لئے آج کانگریس کو ذمہ دار قراردیا۔ ہندو آبادی میں کمی سے متعلق ایک اخباری تراشہ شیئر کرتے ہوئے بی جے پی کے آئی ٹی سل کے سربراہ امیت مالویہ نے ایکس پر کہا کہ 1950 اور 2015 کے دوران ہندوؤں کی آبادی میں 7.8 فیصد کی کمی واقع ہوئی جبکہ مسلمانوں کی آبادی میں 43 فیصد کا اضافہ ہوا۔

متعلقہ خبریں
دہلی پولیس کی کارروائی کے خلاف کانگریس ہائیکورٹ سے رجوع
دونوں جماعتوں نے حیدرآباد کو لیز پر مجلس کے حوالے کردیا۔ وزیر اعظم کا الزام (ویڈیو)
بی جے پی اور کانگریس دونوں ریزرویشن مخالف : مایاوتی
کانگریس نے توہین کیلئے ہندو دہشت گردی کا لفظ دیا: یوگی
ریزرویشن کی بالائی حد، مودی اپنا موقف واضح کریں: کانگریس

 انہوں نے کہا کہ کانگریس کے کئی دہائیوں کے اقتدار کا یہ نتیجہ ہے۔ اگر ان پر چھوڑیا جائے تو پھر ہندوؤں کے لئے کوئی ملک باقی نہیں بچے گا۔ وزیراعظم کی اکنامک اڈوائزری کونسل کی جانب سے شائع کردہ اسٹڈی کے مطابق 1950 تا 2015کے دوران ہندوؤں کی آبادی میں 7.8 فیصد کی کمی واقع ہوئی ہے جبکہ مسلمانوں کی آبادی میں 43 فیصد کا اضافہ ہوا ہے۔

1951کی مردم شماری کے مطابق ہندوستان میں ہندوؤں کی آبادی 84.68 فیصد تھی جس میں کمی واقع ہوئی اور یہ 2015میں گھٹ کر 78.06 فیصد ہوگئی جبکہ مسلمانوں کی آبادی 9.84 فیصد سے بڑھ کر 14.09 فیصد ہوگئی ہے۔

رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا کہ جین برادری کی آبادی جو 1950 میں 0.45 فیصد تھی‘ 2015 میں گھٹ کر 0.36 فیصد ہوگئی۔ لوک سبھا انتخابات کے چوتھے مرحلہ سے قبل یہ رپورٹ منظرعام پر آئی ہے۔

بی جے پی کے قومی ترجمان سدھانشو ترویدی نے کہا کہ اس حقیقت سے سبھی واقف ہیں کہ 2011 کی مردم شماری کے مطابق ہندوؤں کی آبادی 80 فیصد سے گھٹ کر 79.8 فیصد ہوگئی جبکہ مسلمانوں کی آبادی زائداز 14.5 فیصد ہوگئی۔