بلدی انتخابات میں شمالی تلنگانہ میں کانگریس کی غیرمعمولی کامیابی
نظام آباد کارپوریشن کی 60 میں سے 17 ڈویژن جیت کر پارٹی اب وہاں اپنا میئر بنانے کے لئے حکمت عملی تیار کر رہی ہے جبکہ بی جے پی کے ایل پی لیڈر مہیشور ریڈی کے حلقہ میں اہم سمجھی جانے والی نرمل بلدیہ پر بھی کانگریس نے قبضہ جما لیا ہے۔
حیدرآباد تلنگانہ کے حالیہ بلدی انتخابات میں کانگریس پارٹی نے شمالی تلنگانہ میں ماضی کے مقابلہ غیر معمولی کامیابی حاصل کی ہے جو کہ پارلیمانی اور اسمبلی انتخابات کے نتائج سے بھی بڑی جیت قرار دی جا رہی ہے۔
ریاست کے چار کارپوریشنوں میں سے کانگریس نے راما گنڈم اور منچریال میں کلین سویپ کیا جبکہ نظام آباد اور کریم نگر کارپوریشنوں میں بھی خاطر خواہ نشستیں حاصل کیں۔
نظام آباد کارپوریشن کی 60 میں سے 17 ڈویژن جیت کر پارٹی اب وہاں اپنا میئر بنانے کے لئے حکمت عملی تیار کر رہی ہے جبکہ بی جے پی کے ایل پی لیڈر مہیشور ریڈی کے حلقہ میں اہم سمجھی جانے والی نرمل بلدیہ پر بھی کانگریس نے قبضہ جما لیا ہے۔
عادل آباد، لکشٹی پیٹ اور چینور میں کامیابی کے ساتھ ساتھ ضلع نظام آباد کی سات میں سے پانچ بلدیات میں کانگریس کامیاب رہی تاہم بودھن اور کاماریڈی میں معلق نتائج آئے۔ بودھن میں 38 میں سے 17 اور کاماریڈی میں 49 میں سے 19 نشستیں جیت کر کانگریس،مجلس اور دیگر کے تعاون سے اقتدار حاصل کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔
کریم نگر کے اضلاع میں 8 بلدیات میں اس کو واضح اکثریت ملی جبکہ جگتیال اور ویمل واڑہ میں اکثریت کے باوجود معلق کی صورتحال ہے جہاں مقامی ایم ایل ایز کی موجودگی میں چیئرمین کا عہدہ حاصل کرنا آسان سمجھا جا رہا ہے۔
دوسری جانب جنوبی تلنگانہ میں بھی کانگریس نے بڑی تعداد میں بلدی اداروں پر کامیابی حاصل کی ہے لیکن گریٹر حیدرآباد کے مضافاتی علاقوں جیسے سنگاریڈی، رنگا ریڈی اور میڑچل میں بی آر ایس کے ایم ایل ایز کی مضبوط گرفت اور قیادت کی توجہ کے باعث کانگریس کو متوقع نتائج نہیں مل سکے۔
ابراہیم پٹنم میں کانگریس کے ایم ایل اے ہونے کے باوجود پارٹی کو شکست کا سامنا کرنا پڑا جبکہ سنگاریڈی اور سدا شیو پیٹ میں سینئر لیڈر جگا ریڈی نے بی آر ایس ایم ایل اے کے باوجود کانگریس کو کامیابی دلائی۔
ان انتخابات میں ایک تشویشناک پہلو یہ رہا کہ ابراہیم پٹنم، تورو، ترملگری جیسے علاقوں میں پارٹی کے ایم ایل ایز ہونے کے باوجود پارٹی کو شکست ہوئی جس پر پارٹی قیادت تشویش کا شکار ہے۔ نارائن پیٹ، میدک، پرگی اور محبوب آباد سمیت کئی مقامات پر معلق نتائج آئے ہیں جہاں پارٹی اب انفرادی کارکردگی اور مقامی حالات کا جائزہ لے رہی ہے۔