تلنگانہ

ٹی بی سے موت، خاتون کی آخری رسومات کیلئے خاندان کو راضی کرنے والے پولیس عہدیدار کی ستائش

ٹی بی سے مرنے والی خاتون کی آخری رسومات کیلئے ارکان خاندان کو راضی کرنے ایک پولیس عہدیدار کی کامیاب کوشش پراس کی تمام گوشوں سے ستائش کی جارہی ہے۔

حیدرآباد: ٹی بی سے مرنے والی خاتون کی آخری رسومات کیلئے ارکان خاندان کو راضی کرنے ایک پولیس عہدیدار کی کامیاب کوشش پراس کی تمام گوشوں سے ستائش کی جارہی ہے۔

متعلقہ خبریں
مولانا سیداحمد پاشاہ قادری کا سانحہ ارتحال ملت کے لئے نقصان عظیم; مولانا عرفان اللہ شاہ نوری اور مولانا قاضی اسد ثنائی کا تعزیتی بیان
کانگریس کی سیاست اقتدار نہیں، عوامی خدمت کے لیے ہے: محمد فہیم قریشی
سنگارینی میں معیار کو اولین ترجیح، مقررہ اہداف ہر حال میں حاصل کیے جائیں: ڈی کرشنا بھاسکر
ترجیحی شعبوں میں قرضوں کی منظوری یقینی بنائی جائے: ضلع کلکٹر ہری چندنہ داسری
پوسٹ میٹرک اسکالرشپ درخواستوں کی تاریخ میں توسیع، آخری تاریخ 31 مارچ 2026 مقرر

اطلاعات کے مطابق محبوب آباد ضلع سے تعلق رکھنے والی لکشمی ٹی بی سے متاثرتھی جس کے بعد اس کے شوہر اور سسرالی رشتہ داروں نے اس کو دونابالغ بیٹیوں کے ساتھ گذشتہ سال اکتوبر میں مکان سے باہر نکال دیا۔

تاہم ورنگل کے سماجی کارکن محمد فصیح نے خاتون کو جنگاوں کے ایک اولڈ ایج ہوم میں داخل کروایا۔

اس کی ایک بیٹی کو رشتہ داروں نے گود لے لیا اور دوسری لڑکی کو ورنگل کے ایک یتیم خانہ میں شریک کروایاگیا۔

دونوں فی الحال چھٹی اور پانچویں جماعت میں تعلیم حاصل کررہی ہیں۔اسی دوران ہفتہ کو لکشمی کی حالت خراب ہوگئی اور اس کی موت ہوگئی۔

جب اس کے ارکان خاندان کو اس بات کی اطلاع دی گئی تو انہوں نے اس کی لاش کو حاصل کرنے سے انکار کردیا۔

فصیح نے جنگاوں کے اے ایس پی انکت مرنو سے رابطہ کیا جنہوں نے فوری طور پر اپنے ماتحت سرکل انسپکٹر رگھوپتی ریڈی کو مطلع کیا۔

سرکل انسپکٹر نے خاتون کے ارکان خاندان کی کونسلنگ کی جو اپنے آبائی گاوں میں خاتون کی آخری رسومات اداکرنے کیلئے راضی ہوگئے۔