جاپان میں طاقتور زلزلے سے ہلاکتوں کی تعداد 13 ہوئی: وزیراعظم
سَنائے تاکائیچی نے ٹوکیو میں اپنے دفتر میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا، "اب بھی کئی لوگ امداد کے منتظر ہیں اور وقت بہت قیمتی ہے۔ ہم زیادہ سے زیادہ افراد کو تلاش کرنے اور محفوظ نکالنے کے لیے اپنی پوری کوشش کریں گے۔"
ٹوکیو: جاپان کے جزیرے کیوشو کے صوبہ کوماموتو میں آنے والے طاقتور زلزلے کے نتیجے میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد بڑھ کر 13 ہو گئی ہے۔ جاپان کی وزیر اعظم سَنائے تاکائیچی نے بدھ کے روز یہ اطلاع دی۔
وزیر اعظم نے ایک پریس کانفرنس میں کہا، "مقامی وقت کے مطابق صبح ساڑھے آٹھ بجے تک ہلاکتوں کی تعداد 13 ہو چکی ہے۔”
انہوں نے کہا کہ حکومت پھنسے ہوئے افراد کو جلد از جلد بچانے کے لیے تمام ضروری اقدامات کر رہی ہے۔
سَنائے تاکائیچی نے ٹوکیو میں اپنے دفتر میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا، "اب بھی کئی لوگ امداد کے منتظر ہیں اور وقت بہت قیمتی ہے۔ ہم زیادہ سے زیادہ افراد کو تلاش کرنے اور محفوظ نکالنے کے لیے اپنی پوری کوشش کریں گے۔”
منگل کے روز جاپان کے جنوب مغربی حصے میں واقع جزیرۂ کیوشو میں 7.1 شدت کا طاقتور زلزلہ آیا، جس کے بعد 6.1 شدت کا ایک اور جھٹکا محسوس کیا گیا۔ اس کے بعد آریاکے خلیج اور یاتسوشیرو خلیج کے ساحلی علاقوں کے لیے سونامی کا انتباہ جاری کر دیا گیا۔
جاپانی ذرائع ابلاغ کے مطابق زلزلے کے بعد تقریباً دو لاکھ افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل ہونے کی ہدایت دی گئی ہے۔
فوجی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق صوبہ ناگاساکی میں 39 ہزار 200 جبکہ صوبہ کوماموتو میں ایک لاکھ 57 ہزار 700 افراد کو انخلا کا حکم دیا گیا ہے۔ رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ متاثرہ علاقوں کے تقریباً 47 ہزار گھروں کی بجلی منقطع ہو گئی ہے۔