نیپال میں بھوٹے کوشی کے سیلاب میں 162 افراد ہلاک، تقریباً 400 لاپتہ؛ غیر ملکی سیاح بھی شامل
سیلاب نے تین اضلاع میں بڑے پیمانے پر نجی اور سرکاری املاک کو تباہ کر دیا ہے اور اسے حالیہ برسوں میں نیپال کی سب سے ہولناک قدرتی آفات میں سے ایک قرار دیا جا رہا ہے۔ بتایا گیا ہے کہ بھوٹے کوشی کی معاون ندی 'لہیندے' کا بہاؤ برفانی تودہ گرنے کی وجہ سے رک گیا تھا، جس کے بعد اچانک پانی کے شدید دباؤ کے باعث سیلاب آیا۔
کاٹھمنڈو: نیپال میں بدھ کے روز بھوٹے کوشی ندی میں اچانک آنے والے سیلاب کی وجہ سے کم از کم 162 افراد ہلاک ہو گئے ہیں، جبکہ تقریباً 400 افراد لاپتہ ہیں۔ لاپتہ ہونے والوں میں سکیورٹی اہلکار اور غیر ملکی سیاح بھی شامل ہیں۔
سیلاب نے تین اضلاع میں بڑے پیمانے پر نجی اور سرکاری املاک کو تباہ کر دیا ہے اور اسے حالیہ برسوں میں نیپال کی سب سے ہولناک قدرتی آفات میں سے ایک قرار دیا جا رہا ہے۔ بتایا گیا ہے کہ بھوٹے کوشی کی معاون ندی ‘لہیندے’ کا بہاؤ برفانی تودہ گرنے کی وجہ سے رک گیا تھا، جس کے بعد اچانک پانی کے شدید دباؤ کے باعث سیلاب آیا۔
اس سیلاب نے سب سے پہلے چین کی سرحد سے متصل ضلع رسوا کے تیمورے علاقے کو اپنی لپیٹ میں لیا۔ سینکڑوں افراد کی آبادی والا یہ علاقہ دیکھتے ہی دیکھتے بہہ گیا اور اس کے بعد سیلاب نشیبی علاقوں کی طرف بڑھ گیا۔ علاقے میں بارش نہ ہونے کے باعث لوگوں کو کسی بڑے سیلاب کا خدشہ نہیں تھا اور وہ اپنے روزمرہ کے کاموں میں مصروف تھے۔
ابتدائی رپورٹ کے مطابق سیلاب میں نو ہائیڈرو پاور پروجیکٹس اور نو تجارتی بینکوں کی شاخیں تباہ ہو گئی ہیں۔ اس کے علاوہ 19 گاڑیاں گزرنے والے پل اور تقریباً 40 کلومیٹر شاہراہ بہہ گئی ہے۔ نجی اور سرکاری املاک کو پہنچنے والے کل نقصان کا ابھی اندازہ نہیں لگایا جا سکا ہے۔
نوواکوٹ کی بدور میونسپلٹی-7 کے چیئرمین رویندر نیپال نے بتایا کہ سولے سے اکیرے بازار تک سینکڑوں مکانات سیلاب میں تباہ ہو چکے ہیں۔ کئی لوگ محفوظ مقامات پر پہنچ گئے ہیں، لیکن بڑی تعداد میں بزرگ اور بچے ابھی بھی لاپتہ ہیں۔ مقامی رہائشی گوکرن ادھیکاری نے بتایا کہ ان کے گاؤں میں تقریباً کچھ نہیں بچا ہے اور ان کے زیادہ تر واقف کار اب بھی رابطے سے باہر ہیں۔
آفت کے بعد بروقت خبردار نہ کیے جانے کے نظام پر بھی سوالات اٹھے ہیں۔ رسوا ضلع انتظامیہ کے حکام کے مطابق انہیں تبت کی طرف سے آنے والے اس سیلاب کے بارے میں پہلے سے کوئی اطلاع نہیں تھی۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر سرحد پار آفت کی فوری اطلاع دستیاب ہوتی تو جانی و مالی نقصان کو کم کیا جا سکتا تھا۔
قومی ڈیزاسٹر رسک ریڈکشن اینڈ مینجمنٹ اتھارٹی نے سیٹلائٹ تصویروں کے تجزیے کی بنیاد پر ابتدائی طور پر بتایا کہ رسوا گڑھی سرحدی چوکی سے تقریباً 20 کلومیٹر شمال مشرق میں، تبت میں برفانی تودہ گرنے کی وجہ سے لہیندے ندی میں ملبے کے ساتھ سیلاب آیا۔
این ڈی آر آر ایم اے کے سابق سربراہ انل پوکھریل نے کہا کہ نیپال اور چین کے درمیان ایسی آفات کے لیے معلومات کے تبادلے کے نظام کو مضبوط بنانے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کو صرف آفت کے بعد امداد اور بچاؤ کے کاموں تک محدود رہنے کے بجائے ایسا نظام بنانا چاہیے جس سے وقت رہتے قیمتی جانیں بچائی جا سکیں۔
سیلاب کے بعد نیپال کے محکمہ آبی اور موسمیاتی سائنس اور چین کی موسمیاتی انتظامیہ کے حکام نے بدھ کو ایک آن لائن میٹنگ کی۔ اس کے بعد چین نے اتفاق کیا کہ اپنی جانب سے پانی سطح بڑھنے پر وہ نیپال کو فوری طور پر مطلع کرے گا۔
نیپال اور چین نے 2019 میں ڈیزاسٹر رسک ریڈکشن اور ایمرجنسی رسپانس میں تعاون کے لیے ایک مفاہمت کی یادداشت پر دستخط کیے تھے۔ اس میں معلومات کا تبادلہ، قدرتی آفات کی نگرانی، تربیت اور ڈیزاسٹر رسک ریڈکشن پروجیکٹس سمیت نو شعبوں میں تعاون کا التزام ہے۔