کرناٹک

ودھان سودھا میں پاکستان زندہ باد کے نعروں کی این آئی اے کے ذریعہ تحقیقات کا مطالبہ

مرکزی وزیر شوبھا کرندلاجے نے ودھان سودھا کی راہداری میں کانگریس کے راجیہ سبھا الیکشن کے فاتح کے حامیوں کی جانب سے پاکستان زندہ باد کے نعروں کی مرکز کی نگرانی میں این آئی اے کے ذریعہ تحقیقات کروانے کا مطالبہ کیا۔

بنگلورو: مرکزی وزیر شوبھا کرندلاجے نے ودھان سودھا کی راہداری میں کانگریس کے راجیہ سبھا الیکشن کے فاتح کے حامیوں کی جانب سے پاکستان زندہ باد کے نعروں کی مرکز کی نگرانی میں این آئی اے کے ذریعہ تحقیقات کروانے کا مطالبہ کیا۔

متعلقہ خبریں
دھان کی خریداری میں دھاندلیوں کی سی بی آئی جانچ کروائے گی:بی جے پی
یٰسین ملک سزائے موت کیس، سماعت سے ہائیکورٹ جج نے علیحدگی اختیار کرلی
”پاکستان زندہ باد“ کے نعرے کی ودھان سودھا میں گونج، تحقیقاتی ٹیموں کی تشکیل (ویڈیو)
سپریم کورٹ نے مقدمے کی سماعت میں 4 سال کی تاخیر پر این آئی اے کی سرزنش کی
جموں و کشمیر میں جیش محمد کے کمانڈر کی 6 جائیدادیں ضبط: این آئی اے

اس واقعہ کو ”غداری کی نوعیت کی سیکورٹی کوتاہی“ قرار دیتے ہوئے بی جے پی کی سینئر لیڈر نے کہا کہ خاطیوں کی شناخت اور اس مذموم حرکت کے پس پردہ کسی امکانی سازشی کو بے نقاب کرنے یہ (تحقیقات) لازمی ہے۔

انہوں نے مرکزی وزارت داخلہ سے این آئی اے تحقیقات کی درخواست کرتے ہوئے کہا کہ اس کے علاوہ مقامی قانون نافذ کرنے والی ایجنسیوں کو دباؤ یا اثر و رسوخ کا سامنا ہوسکتا ہے۔“

واضح رہے کہ منگل کو ودھان سودھا میں جہاں مقننہ اور ریاستی سکریٹریٹ کی عمارتیں ہیں، نصیر حسین کی انتخابی جیت کے بعد ان کے حامیوں نے مبینہ طور پر ”پاکستان زندہ باد“ کے نعرے بلند کیے تھے۔ مرکزی وزیر داخلہ امیت شاہ کو اپنے مکتوب میں شوبھا نے کہا کہ بعض افراد جو حسین کے مبینہ حامی ہیں نے دراندازی کی اور شرمناک طریقے سے پاکستان نواز نعرے بلند کیے۔

مملکتی وزیر زراعت و بہبود کسان نے کہا کہ ویڈیو میں قید یہ لائق مذموم حرکت جسے میڈیا نے افشاء کیا، ودھان سودھا کے تقدس کو پامال کرتی ہے جو ایسا مرکز ہے جہاں ہمارے دستور کا احترام اور تحفظ کیا جانا چاہیے۔“ اس انتہائی سنگین کوتاہی کے پس پردہ حالات پر ابہام کا پردہ پڑا ہوا ہے۔

وزیر نے تعجب کا اظہار کیا کہ کس طرح یہ افراد قابل لحاظ تعداد میں‘ پولیس کی درکار جانچ کے بغیر ودھان سودھا میں دراندازی میں کامیاب رہے اور کہا کہ یہ ریاستی پولیس انٹلی جنس کی لیاقت پر سوالات اٹھاتی ہے۔ کرندلاجے نے کہاکہ ایسی خامیاں نظام کی ناکامی اور فاسد عناصر سے ممکنہ ساز باز کا اشارہ ہیں جو ہمارے سرکاری اداروں کی حفاظت اور سلامتی کو خطرے میں ڈال رہی ہیں۔“

کرناٹک سے لوک سبھا رکن نے کہا کہ ان کے علم میں یہ بات آئی کہ ممنوعہ تنظیم پاپولر فرنٹ آف انڈیا (پی ایف آئی) سے وابستہ افراد نے مختلف اپوزیشن جماعتوں بالخصوص کانگریس پارٹی میں مبینہ دراندازی کرلی ہے۔ یہ خدشہ بڑھ رہا ہے کہ ودھان سودھا کے واقعہ میں یہی عناصر ملوث ہوسکتے ہیں۔

اپوزیشن سیاسی جماعتوں میں پی ایف آئی ارکان کی دراندازی ان کے مقاصد اور وفاداریوں سے متعلق سنگین سوالات کھڑے کرتی ہے۔“ کرندلاجے نے ان افراد اور ودھان سودھا میں سیکورٹی میں کوتاہی کے درمیان ممکنہ روابط کی جامع تحقیقات کی ضرورت پر زور دیا۔

وزیر نے نشاندہی کی کہ یہ واقعہ نہ صرف ودھان سودھا کے تقدس کو پامال کرتا ہے بلکہ ہماری سکریٹریٹ کو بھی نمایاں سیکورٹی خطرہ پیش کرتا ہے جہاں کرناٹک حکومت کے اہم محکمے کام کرتے ہیں۔“ انہوں نے کہا کہ ودھان سودھا بشمول اسمبلی اور ریکارڈ رومس کے اندر حساس علاقوں تک شرپسندوں کا رسائی حاصل کرنا جامع تحقیقات کی فوری ضرورت کو اجاگر کرتا ہے۔

مزید برآں پاکستان نواز نعرے‘ ان دراندازوں کے مقاصد اور وفاداریوں سے متعلق تشویش پیدا کرتے ہیں۔ کرناٹک حکومت نے چہارشنبہ کو کہا کہ پولیس نے کیس درج کرلیا اور اگر فارنسک رپورٹ سے ثابت ہوجاتا ہے کہ واقعی پاکستان نواز نعرے بلند کیے گئے تو سخت کارروائی کی جائے گی۔“

دریں اثناء بی جے پی کے ایک وفد نے یہاں گورنر سے ملاقات کی اور کانگریس حکومت کو برطرف کرنے اور اسمبلی میں پاکستان نواز نعروں کی این آئی اے تحقیقات کا مطالبہ کیا۔اسمبلی میں قائد اپوزیشن آر اشوک اور کونسل میں قائد اپوزیشن کوٹہ سرینواس پجاری کی قیادت میں وفد نے یہاں گورنر تھاورچند گہلوت کو یادداشت پیش کی۔

قائدین نے کانگریس حکومت کی مذمت کرتے ہوئے ودھان سودھا سے راج بھون تک مارچ کیا۔ اشوک نے کہا کہ یہ حکومت‘نظم و ضبط اور دستوری اقدار کی برقراری میں پوری طرح ناکام ہوچکی ہے۔ ریاستی حکومت ریاست میں نظم و ضبط کی صورت حال کو سنبھالنے میں نااہل ثابت ہوچکی ہے اور ودھان سودھا میں پاکستان نواز نعروں کی اجازت دی۔

منتخب راجیہ سبھا ایم پی نصیر حسین کے حامیوں کے ملک دشمن نعروں کی حرکت کی این آئی اے، آئی بی، قومی ایجنسیوں کے ذریعہ جامع تحقیقات اور خاطیوں کو کیفر کردار تک پہنچانے کی ضرورت ہے۔ لہٰذا آپ کی (گورنر) مداخلت وقت کا تقاضا ہے۔

a3w
a3w