تلنگانہ

پیڈاپلی میں ڈپٹی ٹریزری آفیسر رشوت ستانی کے الزام میں گرفتار

اے سی بی کی جانچ میں یہ پایا گیا کہ دونوں افسران نے اپنے عہدے کا غلط استعمال کیا اور اپنے فرائض کو غلط اور بے ایمانی سے انجام دیا۔

حیدرآباد: تلنگانہ میں انسداد بدعنوانی بیورو (اے سی بی) نے ضلع پیڈاپلی کے راماگنڈم میں تعینات سب ٹریژری آفیسر ایکولا مہیشور اور دفتر میں ان کے ماتحت ملازم ریڈدوینا پون کو 10 ہزار روپے کی رشوت لیتے ہوئے رنگے ہاتھوں پکڑ لیا۔

متعلقہ خبریں
شانگریلا گروپ کی جانب سے معذورین کے لیے خصوصی دعوتِ افطار، ماہرین کا تعلیم و تعاون پر زور
دل کا دورہ پڑنے سے ایس ایس سی طالبہ کی موت
معروف تپ دق (ٹی بی) کے ماہر ڈاکٹر اڈیپو راجیشم کو “دی بیسٹ ٹی بی آفیسر،” ایوارڈ
الانصار فاؤنڈیشن کے زیر اہتمام نمازِ تہجد میں تکمیلِ قرآن، جامع مسجد محبوبیہ میں روحانی اجتماع
امریکہ میں شبِ قدر کے موقع پر مسجد دارالعلوم فاؤنڈیشن میں تہنیتی تقریب، مولانا محمد وحید اللہ خان کی 30 سالہ خدمات کا اعتراف

ایک ریلیز میں، اے سی بی نے کہا کہ جمعرات کے روز افسران نے شکایت کنندہ سے اپنی پنشن منظور کرنے کے لیے 10,000 روپے کی رشوت طلب کی اور قبول کی۔

شکایت کنندہ نے معاملے کی اطلاع اے سی بی کو دی جس کے بعد جال بچھایا گیا اور دونوں ملزمین رشوت کی رقم لیتے ہوئے پکڑے گئے۔ رشوت کی کل رقم میں سے 9000 روپے سب ٹریژری آفیسر اور 1000 روپے آفس کے ماتحت کے لیے تھے۔

اے سی بی کی جانچ میں یہ پایا گیا کہ دونوں افسران نے اپنے عہدے کا غلط استعمال کیا اور اپنے فرائض کو غلط اور بے ایمانی سے انجام دیا۔

دونوں کو گرفتار کرکے کریم نگر کے ایس پی ای اور اے سی بی کیسز کے اسپیشل جج کے سامنے پیش کیا گیا۔