تلنگانہ کے سرکاری جونیئر کالجوں میں 27-2026 تعلیمی سال سے ڈیجیٹل کلاسز کا آغاز
تلنگانہ حکومت نے تعلیمی شعبے میں ایک اہم قدم اٹھاتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ 27-2026 تعلیمی سال سے ریاست کے تمام سرکاری جونیئر کالجوں میں ڈیجیٹل کلاسز شروع کی جائیں گی۔
تلنگانہ حکومت نے تعلیمی شعبے میں ایک اہم قدم اٹھاتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ 27-2026 تعلیمی سال سے ریاست کے تمام سرکاری جونیئر کالجوں میں ڈیجیٹل کلاسز شروع کی جائیں گی۔ اس اقدام کے تحت تلنگانہ کے 430 سرکاری جونیئر کالجوں کو جدید اسمارٹ کلاس روم ٹیکنالوجی سے آراستہ کیا جائے گا۔
حکام کے مطابق ہر جونیئر کالج میں چار انٹرایکٹو فلیٹ پینلز (IFPs) نصب کیے جائیں گے، جو تلنگانہ میں انٹرمیڈیٹ سطح پر ڈیجیٹل تعلیم کا اب تک کا سب سے بڑا منصوبہ ہوگا۔
430 سرکاری جونیئر کالجوں میں ڈیجیٹل تبدیلی
تلنگانہ حکومت کا یہ فیصلہ ٹیکنالوجی پر مبنی تعلیم کو فروغ دینے کی سمت ایک مضبوط قدم سمجھا جا رہا ہے۔ ڈیجیٹل انفراسٹرکچر کے ذریعے کلاس روم تدریس کو جدید، مؤثر اور طلبہ کے لیے زیادہ دلچسپ بنانے کا ہدف رکھا گیا ہے۔
ڈیجیٹل کلاسز میں کیا شامل ہوگا؟
تلنگانہ حکومت کے اس منصوبے کے تحت انٹرایکٹو فلیٹ پینلز کے ذریعے درج ذیل سہولیات فراہم کی جائیں گی:
- ڈیجیٹل اور ملٹی میڈیا پر مبنی اسباق
- ویڈیو سپورٹ کے ساتھ تدریس
- براہِ راست آن لائن کلاسز
- آن لائن کوچنگ اور انٹرایکٹو سیشنز
اس کا مقصد خاص طور پر انٹرمیڈیٹ مضامین کو زیادہ آسان اور قابلِ فہم بنانا ہے، جہاں تصورات کی وضاحت نہایت اہم ہوتی ہے۔
انٹرمیڈیٹ طلبہ کو براہِ راست فائدہ
یہ منصوبہ سرکاری جونیئر کالجوں میں زیرِ تعلیم فرسٹ ایئر اور سیکنڈ ایئر انٹرمیڈیٹ طلبہ کو براہِ راست فائدہ پہنچائے گا۔ حکومت کے مطابق اس سے:
- تعلیمی معیار میں بہتری آئے گی
- سرکاری اور خانگی کالجوں کے درمیان تعلیمی فرق کم ہوگا
- طلبہ کو جدید تدریسی طریقوں سے روشناس کرایا جائے گا
- کلاس روم میں طلبہ کی شرکت اور دلچسپی بڑھے گی
ڈیجیٹل تعلیم کی وسیع حکمتِ عملی کا حصہ
سرکاری جونیئر کالجوں میں ڈیجیٹل کلاسز کا یہ منصوبہ تلنگانہ حکومت کی وسیع ڈیجیٹل ایجوکیشن پالیسی کا حصہ ہے۔ گزشتہ برسوں میں حکومت نے:
- اسکول سطح پر آئی سی ٹی انسٹرکٹرز کی تعیناتی
- 2,800 سے زائد اسکولوں میں ڈیجیٹل لرننگ سپورٹ
- آن لائن لرننگ پلیٹ فارمز کا نفاذ
جیسے اقدامات کیے ہیں۔ تاہم سرکاری جونیئر کالجوں کے لیے یہ پہلا بڑے پیمانے کا ڈیجیٹل منصوبہ ہے، جو انٹرمیڈیٹ تعلیم میں ایک بڑی اصلاح کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
اساتذہ کی تربیت پر سوال برقرار
اگرچہ ڈیجیٹل انفراسٹرکچر کا خاکہ پیش کر دیا گیا ہے، لیکن اساتذہ کی تربیت اور صلاحیت سازی سے متعلق تفصیلات ابھی سامنے نہیں آئیں۔ تعلیمی ماہرین کا کہنا ہے کہ:
- ڈیجیٹل کلاسز کی کامیابی کا دارومدار اساتذہ کی تیاری پر ہے
- انٹرایکٹو فلیٹ پینلز کے مؤثر استعمال کے لیے باقاعدہ تربیت ضروری ہے
- بغیر منظم ٹریننگ کے اس منصوبے کے مطلوبہ نتائج حاصل نہیں ہو سکیں گے
حکام نے اعتراف کیا ہے کہ آئندہ مراحل میں اساتذہ کی تیاری ایک اہم جز ہوگی۔
کیا ڈیجیٹل کلاسز واقعی معیار بہتر بنائیں گی؟
تلنگانہ کے سرکاری جونیئر کالجوں میں ڈیجیٹل کلاسز کے منصوبے نے طلبہ اور والدین میں نئی امیدیں پیدا کی ہیں۔ اگر یہ منصوبہ مؤثر تربیت اور نگرانی کے ساتھ نافذ کیا گیا تو سرکاری جونیئر کالجوں میں تعلیم کے معیار میں نمایاں بہتری آ سکتی ہے۔
27-2026 تعلیمی سال کے قریب آتے ہی یہ دیکھنا دلچسپ ہوگا کہ یہ ڈیجیٹل اقدام عملی طور پر کلاس رومز میں کس حد تک مثبت تبدیلی لاتا ہے۔
کیا آپ کے خیال میں ڈیجیٹل کلاسز سرکاری جونیئر کالجوں کے معیار کو بہتر بنا سکیں گی؟ اپنی رائے ضرور بتائیں۔