نماز عید کی ادائیگی کے مقام کے مسئلہ پر جھگڑا
کراولی ٹاؤن میں تھوڑی دیر کے لئے کشیدگی پھیل گئی تھی۔ نماز ِ عید کہاں ادا کی جائے اس پر کچھ لوگوں میں جھگڑا ہوگیا تھا لیکن انتظامیہ کی مداخلت سے صورتِ حال قابو میں آگئی۔
مین پوری(یوپی) (پی ٹی آئی) کراولی ٹاؤن میں تھوڑی دیر کے لئے کشیدگی پھیل گئی تھی۔ نماز ِ عید کہاں ادا کی جائے اس پر کچھ لوگوں میں جھگڑا ہوگیا تھا لیکن انتظامیہ کی مداخلت سے صورتِ حال قابو میں آگئی۔
عہدیداروں نے پیر کے دن یہ بات بتائی۔ 21 مارچ کو بعض لوگ عیدگاہ کے اُس پار قریبی کھیت میں ایک چبوترہ پر نماز ادا کرنے پر زور دے رہے تھے۔ ان کا دعویٰ تھا کہ سابق میں یہاں نماز ادا کی جاچکی ہے جبکہ دیگر مسلمانوں کا کہنا تھا کہ نماز ِ عید صرف عیدگاہ کے احاطہ میں ادا ہونی چاہئے۔
مقامی لوگوں اور پولیس میں بحث و تکرار ہوئی۔ سوشل میڈیا پر بعد میں اس کی ویڈیوز آگئیں جس سے کشیدگی بڑھ گئی۔ انسپکٹر للت بھاٹی اور سب ڈیویژنل مجسٹریٹ نیرج کمار دیویدی نے مداخلت کی اور مشورہ دیا کہ عیدگاہ کے اندر ہی نماز کی روایت برقرار رکھی جائے۔
بزرگوں اور مذہبی رہنماؤں کی مداخلت سے مسئلہ حل ہوگیا۔ فریقین عیدگاہ کے اندر نماز کی ادائیگی پر آمادہ ہوگئے۔ ایس ڈی ایم دیویدی نے کہا کہ بعض نوجوان متبادل جگہ پر نماز ادا کرنا چاہتے تھے لیکن بعد میں وہ انتظامیہ اور مسلم فرقہ کے بزرگوں کے سمجھانے پر عیدگاہ کے اندر نماز پڑھنے پر آمادہ ہوگئے۔
عیدگاہ کراولی کے امام آصف رضا اسلم نے بتایا کہ جھگڑا غلط فہمی کی وجہ سے ہوا تھا۔ پولیس اور انتظامیہ کی مدد سے اس کی پرامن یکسوئی ہوگئی۔ انہوں نے لوگوں سے اپیل کی کہ وہ سوشل میڈیا پر گمراہ کن پوسٹ شیئر نہ کریں۔
عیدگاہ مین پوری کے ذمہ دار عبدالرحمن چشتی عرف ببلو میاں نے بھی کہا کہ عہدیداروں اور بڑے بوڑھوں کی بروقت مداخلت کی وجہ سے نماز عید کی پرامن ادائیگی یقینی ہوپائی۔ چیف منسٹر یوگی آدتیہ ناتھ نے گزشتہ برس پی ٹی آئی کو انٹرویو میں خبردار کیا تھا کہ ان کی حکومت سڑکوں پر نماز کے حق میں نہیں ہے۔