حیدرآباد

بی آر ایس پرجھوٹے الزامات, کانگریس تاریخ کوتوڑ مروڑ کرپیش کررہی ہے: ہریش راؤ

کانگریس پارٹی کے انتخابی وعدوں پر سخت تنقید کرتے ہوئے وزیر فینانس ٹی ہریش راؤ نے گیارنٹیز پر سوال اٹھائے اور پارٹی پر جھوٹے الزامات لگانے اور تاریخ کو غلط انداز میں پیش کرنے کا الزام لگایا۔

 حیدرآباد: کانگریس پارٹی کے انتخابی وعدوں پر سخت تنقید کرتے ہوئے وزیر فینانس ٹی ہریش راؤ نے گیارنٹیز پر سوال اٹھائے اور پارٹی پر جھوٹے الزامات لگانے اور تاریخ کو غلط انداز میں پیش کرنے کا الزام لگایا۔

متعلقہ خبریں
فون ٹیپنگ کا معاملہ بی سی ریزرویشن سے توجہ ہٹانے کا ڈرامہ : کویتا
متھن ریڈی کو ای ڈی کی نوٹس، شراب اسکام معاملہ میں پوچھ تاچھ
حکومت کی انہدامی کارروائی، پارٹی، متاثرین کو مفت قانونی امداد فراہم کرے گی: ہریش راؤ
ملک میں مسلمانوں کے خلاف بڑھتے حملوں پر مسلم پرسنل لا بورڈ کا اظہارِ تشویش، ملک گیر تحریک چلانے کا اعلان
وارث سرکاروطن ؒ مولانا پیر نقشبندی سے ڈاکٹر ذاکر شاہ افتخاری کی 25رکنی وفد کے ہمراہ روحانی ملاقات

آج کانگریس کے جلسہ عام میں کی گئی تقریر پر رد عمل ظاہر کرتے ہوئے کانگریس کی قیادت کو چیلنج کیا کہ وہ ریاست کے لئے مخصوص منشور کا اعلان  کرنے کے بجائے اپنے مخصوص وعدوں کو پورے ملک میں نافذ کرنے کی ہمّت کا مظاہرہ کریں۔

واضح ہو کہ اتوار کو حیدرآباد کے مضافات میں عوامی میٹنگ کے دوران کانگریس پارٹی کے انتخابی وعدوں کا اعلان کیا گیا۔ بی آر ایس قائد نے کہا کہ کانگریس کرناٹک میں اپنے وعدوں کو پورا کرنے میں ناکام رہی ہے، جس کے نتیجے میں کسانوں اور صنعت کاروں کو  مسائل کا سامنا ہے۔

انہوں نے سوال کیا کہ کیا کانگریس‘بی آر ایس حکومت کی کامیاب اسکیموں جیسے رعیتو بندھو، رعیتو بیما، اور دلت بندھو کو قومی سطح پر عمل کر سکتی ہے۔

ہریش راؤ نے کانگریس پارٹی کی خراب انتخابی کارکردگی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ پارٹی 2014 میں صرف 44 ایم پی سیٹیں اور 2019 کے عام انتخابات میں 52 سیٹیں حاصل کرنے میں کامیاب رہی، اس طرح کے ناقابل عمل وعدوں کی وجہ سے اسے کوئی فائدہ حاصل ہونے والا نہیں ہے۔

انہوں نے بی آر ایس-بی جے پی کی ملی بھگت پر کانگریس لیڈر راہول گاندھی کے الزامات کومضحکہ خیز قرار دیتے ہوئے  مشورہ دیا کہ وہ ایسے بیانات دینے سے پہلے حقائق کی تصدیق کریں۔ انہوں نے یاد دلایا کہ بی آر ایس نے صدارتی یا نائب صدر کے انتخابات میں بی جے پی کی حمایت نہیں کی تھی بلکہ اپوزیشن کے امیدوار یشونت سنہا کو ووٹ دیا تھا۔

انہوں نے  نشاندہی کی کہ مرکزی ایجنسیاں جیسے انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ(ای ڈی) اور سی بی آئی بی آر ایس لیڈروں کو غیر منصفانہ طور پر نشانہ بنا رہی ہیں اور انہیں ہراساں کر رہی ہیں۔