بنگال میں بی جے پی کی جیت کے بعد تشدد جاری، لینن کا مجسمہ توڑا گیا، پانچ افراد گرفتار
مغربی بنگال کے ضلع مرشدآباد کے جیاگنج علاقے میں منگل کی دیر رات مبینہ طور پر بی جے پی حامیوں کے ایک ہجوم نے روسی انقلابی رہنما ولادیمیر لینن کا مجسمہ توڑ دیا، جس کے بعد علاقے میں کشیدگی پھیل گئی۔
مغربی بنگال کے ضلع مرشدآباد کے جیاگنج علاقے میں منگل کی دیر رات مبینہ طور پر بی جے پی حامیوں کے ایک ہجوم نے روسی انقلابی رہنما ولادیمیر لینن کا مجسمہ توڑ دیا، جس کے بعد علاقے میں کشیدگی پھیل گئی۔
یہ واقعہ ریاست میں اسمبلی انتخابات کے نتائج آنے کے بعد جاری انتخابی تشدد کے سلسلے کی ایک نئی کڑی کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ الیکشن کمیشن نے تشدد اور اشتعال انگیزی میں ملوث افراد کے خلاف سخت کارروائی کی ہدایت دی ہے، جبکہ دوسری جانب ریاست میں 9 مئی کو نئی حکومت کی حلف برداری کی تیاریاں بھی جاری ہیں۔
کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا (سی پی ایم) نے اس واقعے پر سخت ردعمل ظاہر کرتے ہوئے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر کہا کہ پانچ مئی کی رات جیاگنج میں بی جے پی کے غنڈوں نے حملہ کرکے لینن کے مجسمے کو توڑ دیا۔
پارٹی کے مطابق ان کے کارکنان نے فوری طور پر پولیس میں شکایت درج کرائی اور اس واقعے کے خلاف احتجاجی مظاہرہ بھی کیا، جس کے بعد پولیس نے پانچ افراد کو گرفتار کرلیا۔
سی پی ایم نے مزید کہا کہ ان کے کارکن بدھ کی صبح دوبارہ موقع پر پہنچے اور اعلان کیا کہ لینن کے مجسمے کی دوبارہ تنصیب 8 مئی کو کی جائے گی۔
مقامی پولیس کے مطابق علاقے کی صورتحال کشیدہ ضرور ہے لیکن مکمل طور پر قابو میں ہے۔ ایک سینئر پولیس افسر نے تصدیق کی کہ توڑ پھوڑ کے الزام میں پانچ افراد کو حراست میں لیا گیا ہے۔
ادھر ترنمول کانگریس کی رہنما مہوا موئترا نے بھی انسٹاگرام پر اس واقعے کی مذمت کرتے ہوئے لکھا کہ ”کل جیاگنج میں بی جے پی کارکنوں نے کئی دہائیوں پرانے لینن کے مجسمے کو گرا دیا اور دعویٰ کیا کہ اس کی جگہ شیواجی کا مجسمہ نصب کیا جائے گا۔ اس ‘تبدیلی’ سے لطف اندوز ہوئیے۔”