کینیڈا میں معروف صوفی بزرگ مولانا پیر سید سہروردی حسینی افتخاری انتقال کر گئے
عروف صوفی بزرگ، حضرت سیدنا افتخار علی شاہ وطنؒ کے پوتے اور حضرت پیر چشتی سید ولی اللہ حسینی شاہ قبلہؒ کے صاحبزادے، مولانا پیر سید سہروردی حسینی افتخاری آج نمازِ فجر کے بعد ٹورنٹو کے ایک اسپتال میں انتقال کر گئے۔
ٹورنٹو: معروف صوفی بزرگ، حضرت سیدنا افتخار علی شاہ وطنؒ کے پوتے اور حضرت پیر چشتی سید ولی اللہ حسینی شاہ قبلہؒ کے صاحبزادے، مولانا پیر سید سہروردی حسینی افتخاری آج نمازِ فجر کے بعد ٹورنٹو کے ایک اسپتال میں انتقال کر گئے۔
خاندانی ذرائع کے مطابق مرحوم گزشتہ کچھ عرصے سے عارضۂ قلب میں مبتلا تھے۔ حال ہی میں ان کے دل میں اسٹنٹ بھی ڈالا گیا تھا، تاہم مشیتِ ایزدی کے مطابق وہ اپنے خالقِ حقیقی سے جا ملے۔
اہلِ خانہ کے مطابق انتقال کے وقت ان کی بڑی ہمشیرہ، جو مولانا پیر ثابت علی رئیس افتخاری کی اہلیہ ہیں، ان کی اہلیہ محترمہ، فرزندِ اکبر پیرزادہ سید ابرار حسینی افتخاری، دونوں بہنیں اور دیگر اہلِ خانہ ان کے پاس موجود تھے۔ اس موقع پر درودِ پاک کا ورد اور سورۂ یٰسین کی تلاوت جاری تھی۔
مرحوم کے انتقال کی اطلاع حیدرآباد دکن میں مقیم ان کے بڑے بھائی، حضرت سیدنا افتخار علی شاہ وطنؒ کے جانشین مولانا پیر سید شبیر نقشبندی افتخاری کو دی گئی، جس کے بعد خاندانِ افتخاریہ اور سلسلۂ عالیہ افتخاریہ میں غم کی لہر دوڑ گئی۔ بعد ازاں مولانا پیر سید کاشف اللہ حسینی افتخاری، سجادہ نشین مرکزی خانقاہِ افتخاریہ، نے سوشل میڈیا کے ذریعے اس خبر کی تصدیق کی۔
مولانا پیر سید سہروردی حسینی افتخاری نے تقریباً انیس برس کی عمر میں حیدرآباد دکن سے سعودی عرب ہجرت کی، جہاں وہ تقریباً تیس برس جدہ میں مقیم رہے۔ اس دوران انہیں بارہا روضۂ رسول ﷺ پر حاضری، عمرہ اور حجِ بیت اللہ کی سعادت حاصل ہوئی۔
بعد ازاں وہ کینیڈا منتقل ہوئے اور تقریباً پینتیس برس تک ٹورنٹو میں مقیم رہے۔ انہوں نے حیدری چمن، خانقاہِ افتخاریہ، ٹورنٹو سے اپنے جدِ امجد حضرت سیدنا افتخار علی شاہ وطنؒ کے روحانی مشن کو جاری رکھا۔ صوفی مشن کے بانی و سربراہ کی حیثیت سے انہوں نے کینیڈا، یورپ اور دیگر ممالک میں اولیائے کرام کی تعلیمات کے فروغ کے لیے نمایاں خدمات انجام دیں۔ ان کے روحانی خطابات اور مجالس سے ہزاروں افراد نے استفادہ کیا۔
مرحوم کی دلی خواہش تھی کہ انہیں حیدرآباد دکن کے تاریخی چشتی چمن میں اپنے جدِ امجد حضرت سیدنا افتخار علی شاہ وطنؒ اور والد و مرشد حضرت پیر چشتی سید ولی اللہ حسینی شاہؒ کے پہلو میں سپردِ خاک کیا جائے، تاہم قدرت کو کچھ اور منظور تھا۔ ان کی تدفین ٹورنٹو کے ایک اسلامی قبرستان میں کی جائے گی۔
اس موقع پر مولانا پیر سید کاشف اللہ حسینی افتخاری نے اعلان کیا کہ مرکزی خانقاہِ افتخاریہ، چشتی چمن، حیدرآباد میں مرحوم کے ایصالِ ثواب کے لیے فاتحہ، ختمِ قرآن اور تعزیتی اجتماع منعقد کیا جائے گا، جس کی تاریخ اور وقت کا اعلان بعد میں کیا جائے گا۔
مولانا پیر سید سہروردی حسینی افتخاری کے انتقال پر ان کے بڑے بھائی مولانا پیر سید شبیر نقشبندی افتخاری، اہلِ خانہ، مریدین اور عقیدت مندوں نے گہرے رنج و غم کا اظہار کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ سے مرحوم کی مغفرت، درجات کی بلندی اور پسماندگان کے لیے صبرِ جمیل کی دعا کی۔
اللہ تعالیٰ مرحوم کو اپنی جوارِ رحمت میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے، جنت الفردوس میں بلند درجات نصیب فرمائے اور تمام لواحقین کو صبرِ جمیل عطا فرمائے۔ آمین۔