تلنگانہ

تلنگانہ میں کھاد کیلئے کسانوں کی مشکلات میں اضافہ

جس پر کسانوں نے افسوس کا اظہار کیا ہے۔ کئی مقامات پر احتجاج شروع ہو گئے ہیں۔ حکومت پر الزام عائد کیا جا رہا ہے کہ مرکزی حکومت نے یوریا کی فراہمی میں 3 لاکھ میٹرک ٹن کی کمی کر دی، جس سے مقامی کسان متاثر ہوئے ہیں۔

حیدرآباد: تلنگانہ میں یوریا کے لئے کسان شدید مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں۔ ایک مہینے سے یوریا کے لئے کوآپریٹو سنٹرس کے چکر لگا لگا کر جوتے گھس چکے ہیں لیکن پھر بھی یوریا دستیاب نہیں ہو رہاہے

متعلقہ خبریں
اے پی سی آر تلنگانہ (APCR) کا ریاست گیر پیرالیگل ایکٹوسٹ و کارکنان کے لئے تربیتی پروگرام کا کامیاب اختتام
نارائن پیٹ میں ضلع کانگریس کی نئی کمیٹی کا اعلان، پارٹی کو گاؤں کی سطح تک مضبوط بنانے پر زور
علمِ بی بی مبارک کی سواری کے لیے ہاتھی کی منظوری، میر فراست علی باقری کا حکومتِ تلنگانہ اور جی کشن ریڈی سے اظہارِ تشکر
نیشنل اوورسیز اسکالرشپ: گاؤں اور چھوٹے قصبوں کے طلبہ کے عالمی تعلیمی خوابوں کو حقیقت میں بدلنے کا ذریعہ
وارث سرکاروطن ؒ مولانا پیر نقشبندی سے ڈاکٹر ذاکر شاہ افتخاری کی 25رکنی وفد کے ہمراہ روحانی ملاقات

جس پر کسانوں نے افسوس کا اظہار کیا ہے۔ کئی مقامات پر احتجاج شروع ہو گئے ہیں۔ حکومت پر الزام عائد کیا جا رہا ہے کہ مرکزی حکومت نے یوریا کی فراہمی میں 3 لاکھ میٹرک ٹن کی کمی کر دی، جس سے مقامی کسان متاثر ہوئے ہیں۔

کسانوں کو طویل انتظار کے باوجود کھاد دستیاب نہیں ہو رہی، جس سے فصلوں کی پیداوار متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔ اس کے علاوہ، بلیک مارکٹنگ اور مصنوعی قیمتوں میں اضافہ بھی کسانوں کی پریشانی کو بڑھا رہا ہے۔

اپوزیشن کا ماننا ہے کہ اس طرح میں یوریا کھاد کی کمی ایک سنگین مسئلہ بن چکی ہے، اور اس کے حل کے لئے حکومت کو فوری منصوبہ بندی اور موثر فراہمی کا نظام قائم کرنا ہوگا تاکہ کسانوں کو اپنی فصلیں برباد ہونے سے بچایا جا سکے۔