اردو زبان کی بقا و ترقی کے لیے اردو الفاظ کا کثرت سے استعمال ضروری پروفیسر شکور ومسکین احمد کا خطاب
رنگ غزل کے کل ہند مشاعرہ میں ہمانشو بابر، حامد بھساولی ڈاکٹر زبیر انصاری ،فاروق شکیل کو زبردست داد
رنگ غزل کے کل ہند مشاعرہ میں ہمانشو بابر، حامد بھساولی ڈاکٹر زبیر انصاری ،فاروق شکیل کو زبردست داد
حیدرآباد : پروفیسر ایس اے شکور سیکرٹری دائرۃ المعارف عثمانیہ یونیورسٹی نے کہا کہ اردو کی ترقی و ترویج کیلیے ہم سب کو اردو کے الفاظ کا زیادہ سے زیادہ استعمال کرنا چاہیے اردو کسی فرقہ یا مذہب کی زبان نہیں یہ ہندوستان کے تمام قوموں کی زبان ہے ان خیالات کا اظہار انہوں نے انڈو ایس اور رنگ غزل کے زیر اہتمام میڈیا پلس گن فاؤنڈری میں منعقدہ عظیم الشان مشاعرے کے موقع پر اظہار خیال کرتے کیا
اس موقع پر انڈو ایس کی جانب سےکرغستان میں تعلیم کے اعلی مواقع سے ممتاز و معروف ماہر کیریئر کونسلر جناب ایم اے حمیدنے طلبہ و طالبات کو واقف کروایا طلبہ و طالبات نے اس سلسلے میں مختلف سوالات کیے جس کا جناب ایم اے حمید نے اطمینان بخش جواب دیا صدر انجمن محبان اردو جناب سید مسکین احمد نے کہا کہ آج کی اس نشست میں مشاعرے کے ساتھ ساتھ طلبہ و طالبات کو اعلی تعلیم کے کم فیس میں کس طرح مواقع حاصل ہیں یہ بات سمجھائی گئی ہے جس سے طلبہ اور سرپرستوں کی بڑی تعداد نے استفادہ کیا ہے
انہوں نے کہا کہ وقفہ وقفہ ست ہونے والے مشاعرے اور ادبی محفلیں اردو زبان و ادب کو زندہ رکھنے میں بڑے ہی معاون ثابت ہوتے ہیں اس موقع پر انڈو ایس کے فاؤنڈر محمد آصف کے علاوہ انور کمال فاؤنڈر’ شارقہ ملک ڈائریکٹر انڈو ایس’ ڈاکٹر عفان قیصر اور دیگر موجود تھے لطیف الدین لطیف نےابتدائی کاروئی چلائی اور مشاعرہ کی کاروائی ممتاز ناظم جناب منان فراز نے چلائی منان فراز نے حیدرآباد کو اردو کی محبتوں سے بھرپور شہر قرار دیا اور کہا کہ مشاعروں کے اہتمام میں حیدرآباد کو اولین فوقیت حاصل ہے انہوں نے حیدراباد میں اردو زبان کے پھلنے پھولنے میں شعرا برادری کے رول کو خراج تحسین ادا کیا
مشاعرہ کی صدارت ڈاکٹر فاروق شکیل مخدوم ایوارڈ یافتہ نے کی انور کمال اور محمد آصف نے تمام مہمانوں کا خیر مقدم کیا صدر مشاعرہ ڈاکٹر فاروق شکیل کے علاوہ جناب حامد بھساولی، انور کمال’ ڈاکٹر زبیر انصاری’ ہیمانشی بابرا ‘جناب شفیق عابدی’ کو بھر پور داد و تحسین سے نوازہ نوجوان شاعرہ ہمانشو بابرا سے سامعین نے فرمائش کی اور خوب دادو تحسین سے نوازا
جناب سلیم دریا پوری’ رادھیکا متل، شارقہ ملک، منان فراز، سدھارتھ ساحل’ کے علاوہ حیدرآبادی شعراکرام لطیف الدین لطیف، سعد اللہ خان سبیل، آرزو مہک نے کلام سنایا جناب لطیف الدین لطیف کے مزاحیہ کلام پر سامعین نے زبردست داد دی اس موقع پر سامعین کی کثیر تعداد موجود تھی کنوینر لطیف الدین لطیف کے شکریہ پر یہ یادگارمشاعرہ کاخوشگوار اختتام عمل میں آیا۔