دہلی

آدھار اپ ڈیٹ مہم میں تیزی، اسکولی بچوں کے 2 کروڑ سے زائد ریکارڈ اپ ڈیٹ

بچوں کی عمر بڑھنے کے ساتھ ان کی بایومیٹرک تفصیلات میں تبدیلی آنے کے امکان کو دیکھتے ہوئے پانچ سال کی عمر پوری ہونے پر اور پھر 15 سال کی عمر پوری ہونے پر لازمی بایومیٹرک اپ ڈیٹ کرایا جانا ضروری ہے

نئی دہلی :  یونیک آئیڈینٹی فکیشن اتھارٹی آف انڈیا (یو آئی ڈی اے آئی) نے اسکولی بچوں کے آدھار کارڈ میں لازمی بایومیٹرک اپ ڈیٹ (ایم بی یو) کے لیے چلائی جا رہی ملک گیر مشن موڈ مہم کے تحت ملک بھر میں اسکولی بچوں کے دو کروڑ سے زیادہ لازمی بایومیٹرک اپ ڈیٹ مکمل کیے ہیں۔

الیکٹرانکس اور آئی ٹی کی وزارت نے منگل کے روز بتایا کہ اس مہم میں اب تک تقریباً 1.56 لاکھ اسکول شامل ہو چکے ہیں۔ یو آئی ڈی اے آئی نے یہ مہم ستمبر 2025 میں شروع کی تھی۔ اس کے تحت بچوں کو ان کے اسکولوں میں ہی خصوصی کیمپوں کے ذریعے آدھار بایومیٹرک اپ ڈیٹ کی سہولت دستیاب کرائی جا رہی ہے۔ یو آئی ڈی اے آئی نے ریاستی اور مرکز کے زیرِ انتظام علاقوں کے شعبۂ تعلیم کے ساتھ ربط و ضبط قائم کرتے ہوئے اس سروس کو بچوں تک براہِ راست پہنچانے کا بندوبست کیا ہے، جس سے کروڑوں طلبہ اور ان کے سرپرستوں کے لیے آدھار اپ ڈیٹ کا عمل زیادہ آسان اور سہولت بخش ہوا ہے۔

اس پہل کو یو آئی ڈی اے آئی کی وزارتِ تعلیم کے ‘یونیفائیڈ ڈسٹرکٹ انفارمیشن سسٹم فار ایجوکیشن پلس’ (یو ڈی آئی ایس ای ) کے ساتھ تکنیکی انضمام (انٹیگریشن) سے بھی مدد ملی ہے۔ اس انضمام کے ذریعے اسکولوں میں بچوں کی لازمی بایومیٹرک اپ ڈیٹ کی صورتِ حال کی معلومات دستیاب ہوتی ہے اور جن بچوں کا اپ ڈیٹ التوا میں ہے، ان کی شناخت کر کے عمل کو آگے بڑھانا آسان ہوتا ہے۔

یو آئی ڈی اے آئی کے مطابق، پانچ سال سے کم عمر کے بچوں کے آدھار اندراج (اینرولمنٹ) کے دوران ان کی آبادیاتی معلومات (ڈیموگرافک ڈیٹیلز) اور تصویر درج کی جاتی ہے، جبکہ انگلیوں کے نشانات اور آنکھوں کی پتلیوں جیسے بایومیٹرک تفصیلات اس عمر میں درج نہیں کی جاتیں۔ بچوں کی عمر بڑھنے کے ساتھ ان کی بایومیٹرک تفصیلات میں تبدیلی آنے کے امکان کو دیکھتے ہوئے پانچ سال کی عمر پوری ہونے پر اور پھر 15 سال کی عمر پوری ہونے پر لازمی بایومیٹرک اپ ڈیٹ کرایا جانا ضروری ہے۔

وقت پر ایم بی یو مکمل ہونے سے بچوں کی اسکولی اور اعلیٰ تعلیم سے جڑے امور میں آدھار تصدیق ہموار رہنے میں مدد ملتی ہے۔ مختلف سرکاری اسکیموں اور خدمات کا فائدہ اٹھانے کے ساتھ ساتھ جہاں آدھار تصدیق ضروری ہو، وہاں بھی اپ ڈیٹ شدہ بایومیٹرک معلومات کارآمد ہوتی ہے۔ یو آئی ڈی اے آئی نے سرپرستوں سے بچوں کے آدھار میں لازمی بایومیٹرک اپ ڈیٹ وقت پر کرانے کی اپیل کی ہے۔