پانی کی قلت کے درمیان حیدرآباد والوں کیلئے ایک اور بری خبر؟
شہر کی کئی بستیوں اور کالونیوں میں بورویل خشک ہونے سے عوام کو پانی کے لیے پریشانیوں کا سامنا ہے۔ ایسے حالات میں پانی کے بلوں میں اضافے کی اطلاعات نے شہریوں کی تشویش بڑھا دی ہے۔
حیدرآباد میں پانی کی قلت آنے والے دنوں میں مزید سنگین ہونے کا خدشہ ظاہر کیا جارہا ہے۔ ال نینو کے باعث خشک سالی جیسی صورتحال کے نتیجے میں زیر زمین پانی کی سطح مسلسل گر رہی ہے، جبکہ حیدرآباد میٹروپولیٹن واٹر سپلائی اینڈ سیوریج بورڈ کی جانب سے پانی کی سربراہی طلب کے مطابق نہ ہونے کے سبب واٹر ٹینکروں کی مانگ میں روز بہ روز اضافہ ہورہا ہے۔
گزشتہ سال کے مقابلے اس سال دوگنی تعداد میں ٹینکروں کی بکنگ کی جارہی ہے۔ دوسری جانب سنگور، منجیرا اور عثمان ساگر آبی ذخائر میں پانی کی سطح بھی کم ہونے کا خدشہ ظاہر کیا جارہا ہے۔
شہر کی کئی بستیوں اور کالونیوں میں بورویل خشک ہونے سے عوام کو پانی کے لیے پریشانیوں کا سامنا ہے۔ ایسے حالات میں پانی کے بلوں میں اضافے کی اطلاعات نے شہریوں کی تشویش بڑھا دی ہے۔
اطلاعات کے مطابق ریاستی حکومت کی جانب سے متعارف کردہ نئے کیور بل کے تحت واٹر بورڈ کے اعلیٰ عہدیدار پانی اور سیوریج کے انتظامی چارجز میں اضافے کی تجویز پر غور کررہے ہیں۔
بل میں صورتحال کے مطابق پینے کے پانی اور گندے پانی کی نکاسی و انتظام کے چارجز میں اضافہ کرنے کی گنجائش رکھی گئی ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ مالی خسارے سے دوچار واٹر بورڈ کو اس اضافے کے ذریعے کچھ راحت مل سکتی ہے، تاہم اس کا بوجھ صارفین پر پڑے گا۔
اطلاعات کے مطابق پانی کے بلوں میں اضافے سے پہلے سیوریج چارجز بڑھانے کی تیاری کی جارہی ہے۔ فی الحال ماہانہ کم از کم بل 248 روپے ہے، لیکن سیوریج چارجز میں اضافے کے بعد مجموعی بل 300 سے 350 روپے تک پہنچنے کا امکان ظاہر کیا جارہا ہے۔
بتایا جاتا ہے کہ گریٹر حیدرآباد میونسپل کارپوریشن کے انتخابات مکمل ہونے کے بعد پانی کے نرخوں میں بھی اضافے پر غور کیا جاسکتا ہے۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ پہلے ہی مہنگائی اور پانی کی قلت سے مشکلات کا سامنا ہے، ایسے میں بلوں میں اضافہ ان پر مزید بوجھ ڈالے گا۔
سابقہ بی آر ایس حکومت نے واٹر بورڈ کے دائرہ اختیار میں آنے والے صارفین کو ماہانہ 20 ہزار لیٹر تک مفت پینے کا پانی فراہم کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔ بعد ازاں آؤٹر رنگ روڈ کے اندر واقع علاقوں کو واٹر بورڈ کے دائرہ اختیار میں شامل کیا گیا اور گزشتہ سال مزید علاقوں کو ضم کرکے ادارے کو وسعت دی گئی۔
تاہم، رپورٹ کے مطابق ان ضم شدہ علاقوں میں مفت پانی کی اسکیم نافذ نہیں کی گئی ہے۔ ایسے میں اگر پانی اور سیوریج کے بلوں میں اضافہ کیا جاتا ہے تو ان علاقوں کے عوام پر اضافی مالی بوجھ پڑنے کا اندیشہ ہے۔
شہریوں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ بلوں میں اضافہ کرنے کے بجائے مفت پینے کے پانی کی اسکیم کو ضم شدہ علاقوں تک بھی وسعت دی جائے تاکہ عوام کو پانی کی قلت اور بڑھتے اخراجات سے مزید پریشانی کا سامنا نہ کرنا پڑے۔