تلنگانہحیدرآباد

حیدرآباد میں پانی کو لے کر چونکا دینے والا انکشاف، آنے والے دنوں میں کیا ہونے والا ہے؟

حیدرآباد میں بارش کی کمی کے باعث زیر زمین پانی کی سطح تشویشناک صورتحال اختیار کرتی جارہی ہے۔ ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ آنے والے مہینوں میں شہر کے کئی علاقوں میں زیر زمین پانی کی شدید قلت پیدا ہوسکتی ہے۔

حیدرآباد میں بارش کی کمی کے باعث زیر زمین پانی کی سطح تشویشناک صورتحال اختیار کرتی جارہی ہے۔ ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ آنے والے مہینوں میں شہر کے کئی علاقوں میں زیر زمین پانی کی شدید قلت پیدا ہوسکتی ہے۔

محکمہ زیر زمین آبی وسائل کی تازہ سرکاری رپورٹ کے مطابق شہر کے مختلف علاقوں میں پانی کی سطح کے درمیان نمایاں فرق پایا گیا ہے۔ بعض مقامات پر پانی زمین کی سطح کے قریب موجود ہے، جبکہ کئی علاقوں میں پانی حاصل کرنے کے لیے انتہائی گہرائی تک بورویل کھودنے کی ضرورت پیش آرہی ہے۔

رپورٹ کے مطابق حیدرآباد ضلع میں زیر زمین پانی کی سب سے کم گہرائی بندلہ گوڑہ منڈل کے علی آباد گاؤں میں ریکارڈ کی گئی، جہاں پانی کی سطح زمین سے صرف 1.32 میٹر نیچے ہے۔ اس کے برعکس امیرپیٹ منڈل میں گرین لینڈس نیچر کیور اسپتال کے قریب پانی کی سطح زمین سے 34.99 میٹر نیچے ریکارڈ کی گئی۔ یہ فرق شہر کے مختلف علاقوں میں زیر زمین پانی کی دستیابی کی غیر یکساں صورتحال کو ظاہر کرتا ہے۔

محکمہ کی رپورٹ کے مطابق حیدرآباد ضلع کے 28 فیصد علاقے میں زیر زمین پانی کی سطح زمین سے صفر تا 5 میٹر کی گہرائی میں ہے، جبکہ 34 فیصد علاقے میں یہ سطح 5 سے 10 میٹر کے درمیان ہے۔

اسی طرح 21 فیصد علاقے میں پانی 10 سے 15 میٹر، 10 فیصد میں 15 سے 20 میٹر اور 7 فیصد علاقے میں 20 میٹر سے زیادہ گہرائی میں دستیاب ہے۔ ماہرین ماحولیات کے مطابق ضلع کے اس 7 فیصد علاقے پر خصوصی توجہ دینے کی ضرورت ہے، جہاں پانی کی سطح زمین سے 20 میٹر سے بھی نیچے چلی گئی ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ بارشوں کی کمی کے ساتھ زیر زمین پانی کا ضرورت سے زیادہ استعمال بھی اس صورتحال کی اہم وجہ ہے۔

گہرے آبی ذخائر پر دباؤ بڑھنے کے باعث کئی علاقوں میں عوام کو پانی حاصل کرنے کے لیے زیادہ گہرے بورویل کھودنے پڑ رہے ہیں، حالانکہ شہر کے بعض مقامات پر زیر زمین پانی کی سطح نسبتاً بہتر ہے۔

دوسری جانب رنگاریڈی ضلع میں بھی زیر زمین پانی کی سطح میں گراوٹ دیکھی جارہی ہے۔ محکمہ زیر زمین آبی وسائل کی رپورٹ کے مطابق ضلع کے 15 منڈلوں میں پانی کی سطح زمین سے 5 سے 10 میٹر نیچے ہے، جو مجموعی رقبے کا تقریباً 55 فیصد بنتا ہے۔

رپورٹ میں کسی بھی منڈل میں پانی کی سطح صفر سے 5 میٹر کے درمیان ہونے کی نشاندہی نہیں کی گئی، جو اس خطے میں زیر زمین پانی کی صورتحال پر تشویش کو ظاہر کرتی ہے۔

مئی سے ستمبر 2026 کے دوران پانی کی سطح میں ہونے والی تبدیلیوں کے اعداد و شمار کے مطابق حیدرآباد کے اپوگوڑہ میں کم سے کم 0.06 میٹر اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جبکہ گولکنڈہ میں سب سے زیادہ 17.62 میٹر اضافہ درج ہوا۔

دوسری جانب ترناکہ میں پانی کی سطح میں 0.04 میٹر اور مرادپلی میں 2.80 میٹر کی کمی ریکارڈ کی گئی۔ مجموعی طور پر نگرانی کیے جانے والے 83 فیصد کنوؤں میں پانی کی سطح بلند ہوئی، جبکہ 17 فیصد کنوؤں میں کمی دیکھی گئی۔

ان اعداد و شمار کے باوجود ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ بارشوں کی کمی، پانی کے بے تحاشہ استعمال اور گہرے آبی ذخائر پر بڑھتے دباؤ کو نظرانداز نہیں کیا جاسکتا۔

زیر زمین پانی کے تحفظ کے لیے بارش کے پانی کو محفوظ کرنے، پانی کے استعمال میں احتیاط برتنے اور قدرتی آبی ذخائر کی بحالی جیسے اقدامات ضروری ہیں، تاکہ آنے والے مہینوں میں شہر کو پانی کی شدید قلت سے بچایا جاسکے۔