حیدرآباد

نامپلی خوفناک آتشزدگی سانحہ، خاتون اور 2 بچوں سمیت پانچ افراد ہلاک

حیدرآباد کے نانپلی علاقے سے ایک دل دہلا دینے والا واقعہ سامنے آیا ہے، جہاں ایک چار منزلہ فرنیچر کی دکان میں لگنے والی شدید آگ کے نتیجے میں ایک خاتون اور دو کمسن بچوں سمیت پانچ افراد جان کی بازی ہار گئے۔

حیدرآباد: حیدرآباد کے نانپلی علاقے سے ایک دل دہلا دینے والا واقعہ سامنے آیا ہے، جہاں ایک چار منزلہ فرنیچر کی دکان میں لگنے والی شدید آگ کے نتیجے میں ایک خاتون اور دو کمسن بچوں سمیت پانچ افراد جان کی بازی ہار گئے۔

متعلقہ خبریں
جامعہ راحت عالم للبنات عنبرپیٹ میں یومِ جمہوریہ کی تقریب، ڈاکٹر رفعت سیما کا خطاب
حج ہاوز میں عازمین حج کے قیام و طعام کے انتظامات کا جائزہ
آئی یو ایم ایل سٹوڈنٹس کانفرنس "ہم سفر” نے حیدرآباد یونیورسٹی کے طلباء میں اتحاد اور سماجی ذمہ داری کا مطالبہ کیا
جدہ میں ہندوستانی قونصل خانے میں 77واں یومِ جمہوریہ شان و شوکت سے منایا گیا
شرفیہ قرأت اکیڈمی کے بارھویں دو روزہ حسن قرأت قرآن کریم مسابقے کا کامیاب اختتام

 یہ المناک حادثہ ہفتہ کی دوپہر پیش آیا، جس کے بعد ریسکیو آپریشن 22 گھنٹوں سے زائد وقت تک جاری رہا۔

حکام کے مطابق، آگ بھڑکنے کے فوری بعد فائر بریگیڈ، پولیس، این ڈی آر ایف اور حیدرآباد ڈیزاسٹر رسپانس اینڈ اسسٹ پروٹیکشن ایجنسی (HYDRAA) کی ٹیمیں موقع پر پہنچ گئیں اور مشترکہ طور پر بڑے پیمانے پر امدادی کارروائیاں شروع کی گئیں۔

 تاہم عمارت کے اندر پھیلے شدید اور گھنے دھوئیں نے ریسکیو آپریشن کو انتہائی مشکل بنا دیا، جس کے باعث کارروائیاں تاخیر کا شکار رہیں۔

ریسکیو ٹیموں نے عمارت کے مختلف حصوں کی باریک بینی سے تلاشی کے دوران پانچ لاشیں برآمد کیں۔ ہلاک ہونے والوں کی شناخت بیبی، اکھیل، پرنیت، امتیاز اور حبیب کے طور پر کی گئی ہے۔ ایک سینئر پولیس عہدیدار کے مطابق، دھوئیں کی شدت اس قدر زیادہ تھی کہ امدادی اہلکاروں کو اندر داخل ہونے میں شدید مشکلات پیش آئیں۔

اطلاعات کے مطابق، مذکورہ عمارت کے بیسمنٹ میں سیکیورٹی گارڈ کے اہلِ خانہ اور دکان کے دیگر ملازمین کے لیے رہائش کا انتظام کیا گیا تھا، جہاں یہ افسوسناک سانحہ پیش آیا۔ ابتدائی جانچ میں یہی رہائشی انتظام جانی نقصان کی بڑی وجہ قرار دیا جا رہا ہے۔

اگرچہ آگ پر مکمل طور پر قابو پا لیا گیا ہے، لیکن واقعے کے بعد نانپلی اور اطراف کے علاقوں میں غم، خوف اور تشویش کی فضا قائم ہے۔ حکام کی جانب سے آگ لگنے کی وجوہات کا تفصیلی جائزہ لیا جا رہا ہے اور واقعے کی مکمل تحقیقات جاری ہیں۔