مہاراشٹرا

ممبئی کے ہوٹلوں اور ریستورانوں میں کھانے کی قیمتیں 15 فیصد تک بڑھنے کا امکان

مہاراشٹر میں خشک سالی جیسی صورتِ حال کے باعث زرعی پیداوار کی ممبئی کو فراہمی متاثر ہونے سے سبزیوں کی قیمتوں میں بھی تیزی آئی ہے۔

ممبئی :    ممبئی کے ہوٹلوں اور ریستورانوں میں آئندہ ایک سے دو ہفتوں کے دوران کھانے پینے کی اشیاء کی قیمتوں میں 10 سے 15 فی صد تک اضافہ متوقع ہے۔ سبزیوں، خوردنی تیل، دالوں، تجارتی ایل پی جی اور دیگر ضروری اشیاء کی قیمتوں میں مسلسل اضافے کے باعث ہوٹل اور ریستوران مالکان کے اخراجات میں نمایاں اضافہ ہوا ہے، جس کے پیش نظرقیمتوں پر نظرثانی کی تیاری کی جا رہی ہے۔

انڈین ہوٹل اینڈ ریسٹورنٹ ایسوسی ایشن (آہار) نے اشارہ دیا ہے کہ بڑھتے ہوئے کاروباری اخراجات کے پیش نظر کھانے پینے کی اشیاء کی قیمتوں میں اضافہ ناگزیر ہو سکتا ہے۔

بازاروں میں گزشتہ چند ماہ کے دوران سبزیوں، اناج، دالوں اور خوردنی تیل کی قیمتوں میں قابلِ ذکر اضافہ درج کیا گیا ہے۔ مہاراشٹر میں خشک سالی جیسی صورتِ حال کے باعث زرعی پیداوار کی ممبئی کو فراہمی متاثر ہونے سے سبزیوں کی قیمتوں میں بھی تیزی آئی ہے۔ دوسری جانب تجارتی ایل پی جی کی قیمتوں کا بڑھنا اور تجارتی گالوں کے کرایہ میں اضافے نے ہوٹلوں اور ریستورانوں کے انتظامی اخراجات میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔

صنعت سے وابستہ نمائندوں کا کہنا ہے کہ خام مال اور دیگر ضروری اشیاء کی قیمتوں میں مسلسل اضافے کے باعث موجودہ نرخوں پر کاروبار جاری رکھنا دشوار ہوتا جا رہا ہے۔ ایسے میں بڑھتے ہوئے اخراجات کا بوجھ کسی حد تک صارفین تک منتقل کیے جانے کا امکان ہے۔

چائے اور ناشتے کی بعض اشیاء کی قیمتوں میں پہلے ہی اضافہ ہو چکا ہے، جبکہ مجوزہ نظرثانی سے ہوٹلوں اور ریستورانوں میں دستیاب تقریباً تمام پکوان متاثر ہو سکتے ہیں۔ ریستوران اور پکوان کی نوعیت کے لحاظ سے فی ڈش 10 سے 20 روپے تک اضافہ متوقع ہے۔

قیمتوں میں ممکنہ اضافے سے دفاتر میں کام کرنے والے ملازمین، اہلِ خانہ سے دور رہ کر تعلیم حاصل کرنے والے طلبہ اور آن لائن کھانے کا آرڈر دینے والے صارفین متاثر ہو سکتے ہیں۔ روزمرہ کے کھانے کے لیے ہوٹلوں اور ریستورانوں پر انحصار کرنے والے شہریوں کے ماہانہ اخراجات میں بھی اضافہ ہونے کا اندیشہ ہے۔

آہار کے ممبئی اور مضافاتی علاقوں میں ہوٹلوں، ریستورانوں اور بار سمیت 25 ہزار سے زائد ارکان ہیں۔ ایسوسی ایشن کے صدر وجے شیٹی کے مطابق مینو کی نظرثانی شدہ قیمتیں آئندہ ہفتے کے اوائل سے نافذ کی جا سکتی ہیں۔

اگر مجوزہ اضافہ نافذ العمل ہوتا ہے تو پہلے ہی مہنگائی سے پریشان صارفین پر مزید مالی بوجھ پڑنے کا خدشہ ہے۔