حیدرآباد

سابق کرکٹر امباتی رائیڈو کے کانگریس میں شامل ہونے کا امکان

کانگریس قائدین کا یہ احساس ہے کہ رائیڈو جن کا تعلق آندھراپردیش ضلع کے گنٹور سے ہے، اُنہیں ملکاجگری میں بسے ہوئے آندھراپردیش کے افراد کی تائید حاصل رہے گی۔

حیدرآباد: سابق کرکٹر امباتی رائیڈو جنہوں نے سیاست میں داخل ہونے کا اعلان کیا ہے، اُن کے کانگریس میں شامل ہونے کا امکان ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ وہ تلنگانہ سے حلقہ لوک سبھا کے لئے مقابلہ کریں گے۔

متعلقہ خبریں
متھن ریڈی کو ای ڈی کی نوٹس، شراب اسکام معاملہ میں پوچھ تاچھ
چنچل گوڑہ میں شبِ برات کے موقع پر مرکزی جلسہ تحفظِ ناموسِ رسالت ﷺ، 3 فروری کو انعقاد
کانگریس کی سیاست اقتدار نہیں، عوامی خدمت کے لیے ہے: محمد فہیم قریشی
ترجیحی شعبوں میں قرضوں کی منظوری یقینی بنائی جائے: ضلع کلکٹر ہری چندنہ داسری
پوسٹ میٹرک اسکالرشپ درخواستوں کی تاریخ میں توسیع، آخری تاریخ 31 مارچ 2026 مقرر

 رائیڈو کی جانب سے سیاست میں داخل ہونے کے اعلان کے بعد سیاسی حلقوں میں ہلچل پیدا ہوگئی ہے۔ رائیڈو نے انڈین پریمیر لیگ (آئی پی ایل) سے گزشتہ ہفتہ سبکدوش ہونے کا اعلان کیا ہے۔ توقع ہے کہ وہ کانگریس میں شامل ہوکر حلقہ لوک سبھا سے مقابلہ کریں گے۔

 ہندوستانی کرکٹ ٹیم کے سابق کیپٹن اور تلنگانہ کانگریس کے کارگذار صدر محمد اظہر الدین کے تعلق سے بتایا گیا ہے کہ وہ اِس سلسلہ میں رائیڈو سے بات چیت کررہے ہیں، تاہم رائیڈو نے یہ نہیں بتایا کہ وہ کونسی پارٹی میں شامل ہونے والے ہیں۔

انہوں نے آندھراپردیش کے چیف منسٹر وائی ایس جگن موہن ریڈی سے گزشتہ ماہ ملاقات کی تھی۔ قبل ازیں انہوں نے ایک ٹوئیٹ کے ذریعہ جگن موہن ریڈی کی خدمات کی ستائش بھی کرچکے ہیں۔ جس سے پیش قیاسی کی جارہی ہے کہ وہ وائی ایس آر سی پی میں شامل ہوسکتے ہیں۔

 37 سالہ جو کہ چینائی سوپر کنگس (سی ایس کے) کے لئے کھیل رہے تھے، 28 / مئی کو اعلان کیا کہ وہ آئی پی ایل سے سبکدوش ہورہے ہیں۔ کانگریس کے ذرائع کے مطابق پارٹی قیادت نے اظہر الدین کو اِس سلسلہ میں ذمہ داری دی ہے تاکہ وہ رائیڈو سے بات چیت کرکے اُنہیں پارٹی میں شامل ہونے کی دعوت دیں۔

 بتایا جاتا ہے کہ پارٹی کی جانب سے اُنہیں حلقہ لوک سبھا ملکاجگری سے ٹکٹ دینے کی پیشکش کی جارہی ہے۔ ملکاجگری حلقہ میں جو کہ حیدرآباد کے مضافات میں واقع ہیں، ایسے رائے دہندوں کی تعداد قابل لحاظ ہے، جن کا تعلق آندھراپردیش ہے اور وہ تلنگانہ کے صدر مقام عرصہ دراز سے بھی رہتے ہیں۔

 مذکورہ حلقہ کی نمائندگی فی الحال تلنگانہ پردیش کانگریس کمیٹی (ٹی پی سی سی) کے صدر اے ریونت ریڈی کرتے ہیں۔ کانگریس قیادت کی جانب سے 2024ء کو ہونے والے لوک سبھا انتخابات میں رائیڈو کو ملکاجگری سے اُمیدوار بنانے کی تجویز پر غور کیا جارہا ہے۔

کانگریس قائدین کا یہ احساس ہے کہ رائیڈو جن کا تعلق آندھراپردیش ضلع کے گنٹور سے ہے، اُنہیں ملکاجگری میں بسے ہوئے آندھراپردیش کے افراد کی تائید حاصل رہے گی۔ مذکورہ حلقہ میں ایسے رائے دہندوں کی تعداد بھی قابل لحاظ ہے، جن کا تعلق کاپو کمیونٹی سے ہے، جس سے رائیڈو تعلق رکھتے ہیں۔

اِس سال اپریل میں بیاٹسمین نے سیاست میں داخل ہونے کی  فیصلہ کیا ہے، انہوں نے اعلان کیا کہ وہ عوام کی خدمت کرنا چاہتے ہیں۔ آیا کس پارٹی میں وہ شامل ہونے والے ہیں، اِس تعلق سے تبصرہ کرنے سے انہوں نے انکار کردیا تھا اور کہا تھا کہ مختلف جماعتوں کی جانب سے اُنہیں پیشکش کی جارہی ہے۔

 سابق کرکٹر نے کہا کہ مناسب وقت پر وہ اپنے فیصلہ کا اعلان کریں گے۔ انہوں نے کہا تھا کہ حیدرآباد میں وہ عمر کا قابل لحاظ حصہ گزار چکے ہیں اور اب آندھرا پردیش کے عوام کی خدمت کا فیصلہ کیا تھا۔ دونوں تلگو ریاستوں کی سیاسی جماعتیں منتظر رکھے ہوئے ہیں۔ عوام کی خدمت کرنے کے خواہش مند ہے۔