سوشیل میڈیا

یو پی آئی صارفین کے لیے بڑی خوشخبری، نئے قواعد نافذ، لین دین مزید تیز اور محفوظ

مرکزی حکومت کے ان نئے اقدامات سے توقع کی جا رہی ہے کہ یو پی آئی نظام مزید مضبوط، محفوظ اور صارف دوست بنے گا، جس سے ملک میں ڈیجیٹل ادائیگیوں کو مزید فروغ حاصل ہوگا۔

مرکزی حکومت نے ڈیجیٹل ادائیگیوں کے نظام یو پی آئی (Unified Payments Interface) کو مزید فروغ دینے کے لیے رواں ماہ کئی اہم نئے قواعد متعارف کرائے ہیں۔ ان تبدیلیوں کا مقصد صارفین کی سہولت میں اضافہ، لین دین کو زیادہ شفاف بنانا اور ادائیگیوں کو مزید محفوظ اور تیز رفتار بنانا ہے۔

متعلقہ خبریں
مرکز نے دیہی ترقی کیلئے اے پی کو بھاری فنڈس جاری کئے
دہشت گردی کا شکار طلبا کیلئے ایم بی بی ایس کی 4 نشستیں مختص
مرکزی حکومت کے تمام دفاتر 22 جنوری کو نصف یوم بند
آسام سے افسپا پوری طرح ہٹادینے مرکز سے سفارش
شہریوں کو بانٹنے اقتدار کا بیجا استعمال کرنے والے ملک دشمن: سونیا گاندھی

نئے قواعد کے مطابق اب یو پی آئی کے ذریعے ہونے والا ہر لین دین زیادہ سے زیادہ 10 سیکنڈ میں مکمل ہونا لازمی ہوگا، جبکہ اس سے قبل ٹرانزیکشن مکمل ہونے میں 30 سیکنڈ تک کا وقت لگتا تھا۔ اس تبدیلی سے خاص طور پر رش کے اوقات میں صارفین کو بڑی راحت ملے گی اور ادائیگی کا عمل پہلے سے زیادہ ہموار ہوگا۔

حکومت نے صارفین کی ویری فکیشن (تصدیق) کے عمل کو بھی مزید سخت کرنے کا فیصلہ کیا ہے، تاکہ بڑے مالی لین دین کو محفوظ بنایا جا سکے۔ اب ادائیگی سے قبل صارف کی واضح منظوری ضروری ہوگی، جس سے غلط یا غیر ارادی ادائیگیوں کو روکا جا سکے گا۔ اس کے ساتھ ہی آٹو ڈیڈکشن (خودکار کٹوتی) پر بھی صارفین کو پہلے سے زیادہ کنٹرول حاصل ہوگا۔

حکام کے مطابق، طویل عرصے سے غیر فعال یا استعمال نہ ہونے والی یو پی آئی آئی ڈیز کو عارضی طور پر معطل کیا جائے گا۔ ایسی آئی ڈیز کو دوبارہ فعال کرنے کے لیے صارفین کو ری ویری فکیشن کرانا لازمی ہوگا، جس سے غیر فعال اکاؤنٹس کے غلط استعمال پر روک لگے گی۔

یو پی آئی صارفین کو درپیش ایک بڑا مسئلہ، یعنی رقم کٹ جانے کے باوجود ادائیگی ناکام ہونے کی صورت میں بھی بڑی سہولت دی جا رہی ہے۔ اب ایسی شکایات کا ازالہ چند گھنٹوں میں کیا جائے گا، جبکہ پہلے اس عمل میں تین دن سے لے کر ایک ہفتہ تک لگ جاتا تھا۔ اس کی ذمہ داری متعلقہ یو پی آئی ایپس یا بینکوں پر عائد ہوگی۔

اس کے علاوہ دیگر صارفین سے رقم کی درخواست (Payment Request) کے عمل کو بھی مزید سخت کیا جا رہا ہے، تاکہ غیر ضروری اور بار بار بھیجی جانے والی درخواستوں پر قابو پایا جا سکے۔

مرکزی حکومت کے ان نئے اقدامات سے توقع کی جا رہی ہے کہ یو پی آئی نظام مزید مضبوط، محفوظ اور صارف دوست بنے گا، جس سے ملک میں ڈیجیٹل ادائیگیوں کو مزید فروغ حاصل ہوگا۔