حیدرآباد

سعودی بس حادثہ، واحد زندہ بچنے والے محمد شعیب آخر کیسے اپنی جان بچانے میں کامیاب ہوئے؟

سعودی عرب کے مدینہ کے قریب پیش آئے بھیانک سڑک حادثے میں حیدرآباد سے تعلق رکھنے والے 42 عمرہ زائرین جھلس کر جاں بحق ہوگئے، جبکہ صرف 24 سالہ محمد عبدالشعیب اس ہولناک سانحے میں زندہ بچ نکلنے والے واحد مسافر ثابت ہوئے۔

سعودی عرب کے مدینہ کے قریب پیش آئے بھیانک سڑک حادثے میں حیدرآباد سے تعلق رکھنے والے 42 عمرہ زائرین جھلس کر جاں بحق ہوگئے، جبکہ صرف 24 سالہ محمد عبدالشعیب اس ہولناک سانحے میں زندہ بچ نکلنے والے واحد مسافر ثابت ہوئے۔ مجموعی طور پر اس حادثے میں 45 افراد افراد جاں بحق ہوئے، جن میں سے 42 حیدرآباد کے رہنے والے تھے۔ یہ حادثہ 17 نومبر کی علی الصبح پیش آیا، جب زائرین عمرہ ادا کرنے کے بعد مکہ سے مدینہ جا رہے تھے۔

متعلقہ خبریں
جامعہ راحت عالم للبنات عنبرپیٹ میں یومِ جمہوریہ کی تقریب، ڈاکٹر رفعت سیما کا خطاب
،،یس آر گارڈن نلگنڈہ میں تحفظِ عقائد کانفرنس اور اسناد و انعامات کی تقسیم،،
بے روزگار نوجوانوں کیلئے ڈی ای ای ٹی ایک مؤثر ڈیجیٹل پلیٹ فارم: اقلیتی بہبود آفیسر آر۔ اندرا
آئی یو ایم ایل سٹوڈنٹس کانفرنس "ہم سفر” نے حیدرآباد یونیورسٹی کے طلباء میں اتحاد اور سماجی ذمہ داری کا مطالبہ کیا
جدہ میں ہندوستانی قونصل خانے میں 77واں یومِ جمہوریہ شان و شوکت سے منایا گیا

تفصیلات کے مطابق، عبدالشعیب پوری رات بس میں سو نہیں سکے، جس کے باعث انہوں نے اپنی جگہ تبدیل کر کے ڈرائیور کے برابر والی نشست پر بیٹھنے کا فیصلہ کیا۔ وہ ڈرائیور سے بات چیت کرتے ہوئے وقت گزار رہے تھے کہ اچانک تیز رفتار آئل ٹینکر ان کی بس سے ٹکرا گیا۔ ٹکر کے چند لمحوں بعد ہی بس میں آگ بھڑک اٹھی اور دیکھتے ہی دیکھتے شعلوں نے پوری بس کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ چند سیکنڈ کے اندر ہی شعیب کھڑکی سے کود کر باہر نکلنے میں کامیاب ہوگئے، لیکن باقی مسافروں کو جان بچانے کا موقع نہ مل سکا۔

صبح تقریباً 5:30 بجے شعیب نے حیدرآباد میں موجود اپنے ایک قریبی رشتہ دار محمد تحسین کو فون کرکے حادثے کی اطلاع دی اور بتایا کہ کوئی اور زندہ نہیں بچ سکا۔ کال کے بعد ان سے رابطہ نہیں ہو پایا۔ اتوار کے روز قونصل جنرل نے اسپتال میں زیر علاج شعیب سے ملاقات بھی کی۔

عبدالشعیب حیدرآباد کے آصف نگر حلقے کے نٹراج نگر کے رہائشی ہیں اور ایک پرائیویٹ کمپنی میں ملازمت کرتے ہیں۔ وہ اپنے والدین کے ساتھ عمرہ پر گئے تھے، تاہم افسوسناک طور پر ان کے والدین بھی اس سانحے میں جان کی بازی ہار گئے۔