حیدرآباد

سائبر دھوکہ دہی کے خلاف حیدرآباد پولیس کا آپریشن آکٹوپس: 16 ریاستوں سے 104 ملزمین گرفتار، 127 کروڑ کا گھپلہ بے نقاب

گرفتار شدگان میں 86 میول اکاؤنٹ ہولڈرس (کرائے کے بینک اکاؤنٹ فراہم کرنے والے)، 17 سپلائرس اور بندھن بینک کا ایک ریلیشن شپ منیجربھی شامل ہے جس پر اندرونی طور پر دھوکہ دہی میں تعاون کا الزام ہے۔ جانچ کے دوران ایسے 151 بینک اکاؤنٹس کی نشاندہی کی گئی جن کے ذریعہ متاثرین کی رقم نکالی گئی تھی۔

حیدرآباد: حیدرآباد سٹی پولیس نے سائبر جرائم کے منظم سنڈیکیٹ کے خلاف ملک گیر سطح پر ایک بڑی کارروائی کرتے ہوئے آپریشن آکٹوپس کے تحت 16 ریاستوں سے 104 افراد کو گرفتار کر لیا۔

متعلقہ خبریں
اسمارٹ فونس چوری کرنے والی ٹولی بے نقاب، 31ملزمین گرفتار
قانون کی خلاف ورزی پر سخت کاروائی ہوگی: کمشنر پولیس سندیپ شنڈالیہ
حیدرآباد پولیس نے دکانوں اور ہوٹلوں کے لئے نیا ٹائم ٹیبل جاری کیا
بی آر ایس کے خلاف تیار کردہ 3 اشتہاری کاریں گاندھی بھون سے ضبط
گنیش جلوس کے دوران پولیس عہدیداروں کا رقص کرنے کا ویڈیو وائرل

ڈی سی پی (سائبر کرائمس) وی اروند بابو کی قیادت میں کی گئی اس کارروائی کا مقصد انویسٹمنٹ اسکیموں، ٹریڈنگ فراڈ اور ڈیجیٹل اریسٹ جیسے گھناؤنے جرائم میں ملوث نیٹ ورکس کو ختم کرنا تھا۔


پولیس کے مطابق اس آپریشن کے لئے 32 خصوصی ٹیمیں تشکیل دی گئی تھیں جنہوں نے 10 دنوں کے دوران مختلف ریاستوں میں بیک وقت چھاپے مارے۔

گرفتار شدگان میں 86 میول اکاؤنٹ ہولڈرس (کرائے کے بینک اکاؤنٹ فراہم کرنے والے)، 17 سپلائرس اور بندھن بینک کا ایک ریلیشن شپ منیجربھی شامل ہے جس پر اندرونی طور پر دھوکہ دہی میں تعاون کا الزام ہے۔ جانچ کے دوران ایسے 151 بینک اکاؤنٹس کی نشاندہی کی گئی جن کے ذریعہ متاثرین کی رقم نکالی گئی تھی۔


ملزمین ملک بھر میں درج سائبر دھوکہ کے 1,055 معاملات میں ملوث پائے گئے ہیں جن میں مجموعی طور پر 127 کروڑ روپے کی رقم کا دھوکہ کیا گیا۔


پولیس نے چھاپوں کے دوران 36 لاکھ روپے نقد، 204 موبائل فونس، 141 سم کارڈس، 152 بینک پاس بکس، 234 ڈیبٹ/کریڈٹ کارڈس اور 26 لیپ ٹاپ ضبط کئے ہیں۔


پولیس کمشنر وی سی سجنار نے کہا کہ سائبر جرائم سماج کے لئے ایک سنگین خطرہ ہیں اور حیدرآباد پولیس اس معاملہ کوقطعی برداشت نہ کرنے کی پالیسی پر عمل پیرا ہے۔