حیدرآباد

حیدرآباد: سنکرانتی کے موقع پر نجی بس آپریٹرس کی لوٹ مار۔کرایوں میں بے تحاشہ اضافہ، مسافر پریشان

محکمہ ٹرانسپورٹ کی گرفت کمزور ہونے کی وجہ سے یہ ٹراویلس ایجنسیاں مسافروں سے دوگنا بلکہ تین گنا زیادہ کرایہ وصول کر رہی ہیں۔ عام طور پر حیدرآباد سے وجے واڑہ کا ٹکٹ 700 روپے ہوتا ہے لیکن تہوار کے موقع پر عوام کے ہجوم کی وجہ سے آن لائن بکنگ میں یہ قیمت 2,700 روپے سے لے کر 4,000 روپے تک پہنچ گئی ہے۔

حیدرآباد: آئندہ چند دنوں میں آنے والے سنکرانتی کے تہوار کے پیش نظر حیدرآباد سے آندھرا پردیش جانے والے مسافروں کی مجبوری کا فائدہ اٹھاتے ہوئے نجی بس آپریٹرس نے کرایوں نے من مانا اضافہ کر دیا ہے۔

متعلقہ خبریں
جامعہ راحت عالم للبنات عنبرپیٹ میں یومِ جمہوریہ کی تقریب، ڈاکٹر رفعت سیما کا خطاب
آئی یو ایم ایل سٹوڈنٹس کانفرنس "ہم سفر” نے حیدرآباد یونیورسٹی کے طلباء میں اتحاد اور سماجی ذمہ داری کا مطالبہ کیا
جدہ میں ہندوستانی قونصل خانے میں 77واں یومِ جمہوریہ شان و شوکت سے منایا گیا
شرفیہ قرأت اکیڈمی کے بارھویں دو روزہ حسن قرأت قرآن کریم مسابقے کا کامیاب اختتام
،،یس آر گارڈن نلگنڈہ میں تحفظِ عقائد کانفرنس اور اسناد و انعامات کی تقسیم،،

محکمہ ٹرانسپورٹ کی گرفت کمزور ہونے کی وجہ سے یہ ٹراویلس ایجنسیاں مسافروں سے دوگنا بلکہ تین گنا زیادہ کرایہ وصول کر رہی ہیں۔ عام طور پر حیدرآباد سے وجے واڑہ کا ٹکٹ 700 روپے ہوتا ہے لیکن تہوار کے موقع پر عوام کے ہجوم کی وجہ سے آن لائن بکنگ میں یہ قیمت 2,700 روپے سے لے کر 4,000 روپے تک پہنچ گئی ہے۔

اسی طرح وشاکھاپٹنم کے لیے نجی سلیپر بسوں کا کرایہ 6,999 روپے تک وصول کیا جا رہا ہے جبکہ حیرت انگیز طور پر اسی تاریخ کے لئے ہوائی جہاز کا ٹکٹ 6,157 روپے میں دستیاب ہے۔


نجی ٹراویل ایجنسیوں نے سیٹوں کی پوزیشن کے لحاظ سے بھی الگ الگ قیمتیں مقرر کر رکھی ہیں۔ آگے، پیچھے اور درمیانی سیٹوں کے لئے مسافروں سے مختلف ریٹس لئے جا رہے ہیں۔ ٹرینوں میں پہلے سے ہی ریزرویشن ختم ہو چکے ہیں اور آر ٹی سی کی اسپیشل بسوں کے اعلان میں تاخیر کی وجہ سے عوام نجی بسوں پر انحصار کرنے پر مجبور ہیں۔

سب سے زیادہ ہجوم9 اور 10 جنوری کو دیکھا جا رہا ہے کیونکہ یہ ہفتہ اور اتوار کے دن ہیں۔ صرف کرایوں میں اضافہ ہی نہیں بلکہ مسافروں کی حفاظت پر بھی سوالات اٹھ رہے ہیں۔ زیادہ منافع کمانے کے چکر میں ٹراویل کمپنیاں غیر تجربہ کار ڈرائیوروں اور فٹنس کے بغیر بسوں کو سڑکوں پر اتار رہی ہیں۔

حال ہی میں ہونے والے کئی حادثات کے باوجود محکمہ ٹرانسپورٹ کی جانب سے مستقل معائنے اور سخت کارروائی کا فقدان نظر آتا ہے۔ راجمندری،وجے واڑہ، وشاکھاپٹنم اور بنگلور جیسے روٹس پر لوٹ مار عروج پر ہے جس پر عوام نے شدید برہمی کا اظہار کرتے ہوئے حکومت سے مداخلت کی اپیل کی ہے تاکہ عام مسافروں کو اس معاشی بوجھ سے نجات مل سکے۔