حیدرآباد

حیدرآباد: عثمانیہ یونیورسٹی میں بی آرایس وی کے کئی لیڈران زیر حراست

پولیس نے شہرحیدرآبا دکی عثمانیہ یونیورسٹی کیمپس میں بی آر ایس وی کے کئی لیڈروں کو حراست میں لے لیا۔

حیدرآباد: پولیس نے شہرحیدرآبا دکی عثمانیہ یونیورسٹی کیمپس میں بی آر ایس وی کے کئی لیڈروں کو حراست میں لے لیا۔

متعلقہ خبریں
مدرسہ صفۃ المسلمین ناچارم ولیج کا 14واں عظیم الشان اجلاسِ عام منعقد، فضائلِ قرآن پر خطابات، حفاظ کی دستاربندی
ڈاکٹر فہمیدہ بیگم کی قیادت میں جامعہ عثمانیہ میں اردو کے تحفظ کی مہم — صحافیوں، ادبا اور اسکالرس متحد، حکومت و یو جی سی پر دباؤ میں اضافہ
چنچل گوڑہ میں شبِ برات کے موقع پر مرکزی جلسہ تحفظِ ناموسِ رسالت ﷺ، 3 فروری کو انعقاد
پوسٹ میٹرک اسکالرشپ درخواستوں کی تاریخ میں توسیع، آخری تاریخ 31 مارچ 2026 مقرر
غریبوں کو مکانات نہ ملنے پر آواز تنظیم کا کلکٹر سے رجوع

بی آر ایس وی لیڈر جنگیا نے کہا کہ بی آر ایس وی لیڈروں کو دو لاکھ نوکریاں، جاب کیلنڈر، میگا ڈی ایس سی جاری کرنے اور گروپ۔IIاور III کے عہدوں میں اضافہ کرنے کے لیے بے روزگار نوجوانوں کی جانب سے آواز اٹھانے پر حراست میں لیا گیا۔

کیمپس میں خاص طور پر آرٹس کالج میں ڈی ایس سی امتحان ملتوی کرنے کے مطالبات کرنے والے مظاہرین کے خلاف کارروائی کی جارہی ہے۔

دریں اثنا، پولیس نے تلنگانہ اسٹوڈنٹس پریشد (ٹی ایس پی) کے کئی لیڈروں کو بھی حراست میں لے لیا جنہوں نے ریاستی یونیورسٹیوں میں ریگولر وائس چانسلروں کی تقرری میں تاخیر پر خاموشی پر پروفیسر ایم کودنڈارام کے گھر کا محاصرہ کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔

پروفیسر کودنڈارام سمیت کئی افرادنے پچھلی حکومت سے یونیورسٹیوں اور بے روزگار نوجوانوں کے مسائل پر سوال اٹھائے لیکن اب وہ خاموش ہیں۔یونیورسٹیاں پچھلے دو ماہ سے باقاعدہ وائس چانسلر کے بغیر چل رہی ہیں۔