تلنگانہ

”میں شادی نہیں کرناچاہتی،پڑھناچاہتی ہوں“، پولیس سے ایک لڑکی رجوع

یہ لڑکی پولیس سے رجوع ہوئی اورکہا کہ وہ انٹرمیڈیٹ کی تعلیم حاصل کررہی ہے اور وہ مزید تعلیمی سفر جاری رکھنے کا اردہ رکھتی ہے اور وہ شادی نہیں کرنا چاہتی۔

حیدرآباد: تلنگانہ کے ضلع جگتیال میں ایک انوکھاواقعہ پیش آیا جس میں ایک لڑکی پولیس سے رجوع ہوئی اور کہاکہ وہ شادی کرنا نہیں چاہتی بلکہ پڑھناچاہتی ہے۔اس کے والدین اس پر شادی کیلئے دباو ڈال رہے ہیں۔جگتیال رورل منڈل پولاسادیہات کی رہنے والی 20سالہ لڑکی کی شادی اس کے والدین نے رائیکل کے ایک گاوں کے رہنے والے نوجوان سے طئے کردی تھی۔

متعلقہ خبریں
تلنگانہ میں طلبہ کیلئے سائبر سکیورٹی اور مصنوعی ذہانت کی جدید تربیتی مہم کا آغاز
اللہ کی رضا مندی والدین کی رضا مندی میں ہے: حضرت مولانا حافظ پیر شبیر احمد کا بیان
گولکنڈہ قلعہ کے ممنوعہ اراضی کے تحفظ کے لیے اے ایس آئی کو نمائندگی
حیدرآباد میں اسٹیٹ اساتذہ یونین تلنگانہ کی جانب سے دعوۃ الافطار تقریب کا انعقاد
مائنارٹی سب پلان کے نفاذ کا مطالبہ، ایس سی، ایس ٹی، بی سی و مسلم فرنٹ کے وفد کی محمد اظہرالدین سے ملاقات

اس کی منگنی 26فروری کو ہونے والی تھی۔یہ لڑکی پولیس سے رجوع ہوئی اورکہا کہ وہ انٹرمیڈیٹ کی تعلیم حاصل کررہی ہے اور وہ مزید تعلیمی سفر جاری رکھنے کا اردہ رکھتی ہے اور وہ شادی نہیں کرنا چاہتی۔

اس پر پولیس نے اس کے والدین کی کونسلنگ کی جس پر وہ اس کی شادی کو منسوخ کرنے اور اس کے تعلیم کو جاری رکھنے کو یقینی بنانے کیلئے راضی ہوگئے۔اس طالبہ کو سکھی سنٹرمنتقل کردیاگیا۔