تلنگانہ

”میں شادی نہیں کرناچاہتی،پڑھناچاہتی ہوں“، پولیس سے ایک لڑکی رجوع

یہ لڑکی پولیس سے رجوع ہوئی اورکہا کہ وہ انٹرمیڈیٹ کی تعلیم حاصل کررہی ہے اور وہ مزید تعلیمی سفر جاری رکھنے کا اردہ رکھتی ہے اور وہ شادی نہیں کرنا چاہتی۔

حیدرآباد: تلنگانہ کے ضلع جگتیال میں ایک انوکھاواقعہ پیش آیا جس میں ایک لڑکی پولیس سے رجوع ہوئی اور کہاکہ وہ شادی کرنا نہیں چاہتی بلکہ پڑھناچاہتی ہے۔اس کے والدین اس پر شادی کیلئے دباو ڈال رہے ہیں۔جگتیال رورل منڈل پولاسادیہات کی رہنے والی 20سالہ لڑکی کی شادی اس کے والدین نے رائیکل کے ایک گاوں کے رہنے والے نوجوان سے طئے کردی تھی۔

متعلقہ خبریں
جامعہ راحت عالم للبنات عنبرپیٹ میں یومِ جمہوریہ کی تقریب، ڈاکٹر رفعت سیما کا خطاب
اللہ کی رضا مندی والدین کی رضا مندی میں ہے: حضرت مولانا حافظ پیر شبیر احمد کا بیان
بے روزگار نوجوانوں کیلئے ڈی ای ای ٹی ایک مؤثر ڈیجیٹل پلیٹ فارم: اقلیتی بہبود آفیسر آر۔ اندرا
آئی یو ایم ایل سٹوڈنٹس کانفرنس "ہم سفر” نے حیدرآباد یونیورسٹی کے طلباء میں اتحاد اور سماجی ذمہ داری کا مطالبہ کیا
جدہ میں ہندوستانی قونصل خانے میں 77واں یومِ جمہوریہ شان و شوکت سے منایا گیا

اس کی منگنی 26فروری کو ہونے والی تھی۔یہ لڑکی پولیس سے رجوع ہوئی اورکہا کہ وہ انٹرمیڈیٹ کی تعلیم حاصل کررہی ہے اور وہ مزید تعلیمی سفر جاری رکھنے کا اردہ رکھتی ہے اور وہ شادی نہیں کرنا چاہتی۔

اس پر پولیس نے اس کے والدین کی کونسلنگ کی جس پر وہ اس کی شادی کو منسوخ کرنے اور اس کے تعلیم کو جاری رکھنے کو یقینی بنانے کیلئے راضی ہوگئے۔اس طالبہ کو سکھی سنٹرمنتقل کردیاگیا۔