تلنگانہ کے سرکردہ ماونوازوں کی خودسپردگی میں اسپیشل انٹلی جنس برانچ کی سربراہ آئی جی پی سومتی کا اہم رول
انہوں نے ماونوازوں کو ہتھیار ڈالنے پر آمادہ کرنے کے لئے طویل اور انتہائی نازک مذاکرات کی نگرانی کی۔ ان ماونوازوں نے آئی جی سومتی اور ایس آئی بی ٹیم کی پیشہ ورانہ کاوشوں کی وجہ سے ہی موجودہ حالات کو سمجھا اور ہتھیار ڈالنے کا فیصلہ کیا۔
حیدرآباد: تلنگانہ کے سرکردہ ماونوازوں کی خودسپردگی میں تلنگانہ پولیس کے اسپیشل انٹلی جنس برانچ کی سربراہ آئی جی پی سومتی کا اہم رول رہا ہے۔
انہوں نے ماونوازوں کو ہتھیار ڈالنے پر آمادہ کرنے کے لئے طویل اور انتہائی نازک مذاکرات کی نگرانی کی۔ ان ماونوازوں نے آئی جی سومتی اور ایس آئی بی ٹیم کی پیشہ ورانہ کاوشوں کی وجہ سے ہی موجودہ حالات کو سمجھا اور ہتھیار ڈالنے کا فیصلہ کیا۔
پولیس ذرائع کے مطابق اس حکمت عملی کے پیچھے یہ سوچ کارفرما تھی کہ اگر یہ ماونوازانکاونٹر میں ہلاک ہوجاتے تو شہید کہلاتے اور اگر گرفتار ہوتے تو ہیرو بن جاتے لیکن ہتھیار ڈالنے کی صورت میں ان کی عسکری حیثیت صفرہو جاتی ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ گزشتہ سال ہتھیار ڈالنے والے ماؤ نواز رہنما ایم وینوگوپال راؤ کے برعکس ایک اور سرکردہ ماونوازدیوجی کا مسلح جدوجہد چھوڑنے کا کوئی ارادہ نہیں تھا لیکن سومتی نے اپنی مہارت سے انہیں اس پر قائل کیا۔
بی سومتی ایک تجربہ کار انٹلی جنس عہدیدارہیں جو گزشتہ دو سالوں کے دوران تلنگانہ پولیس کے سامنے 591 ماؤ نوازوں کے ہتھیار ڈالنے کے عمل کی نگرانی کر چکی ہیں۔
2001 بیچ کی ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ پولیس کے طور پر کیریئر کا آغاز کرنے والی سومتی کو 2006 میں آئی پی ایس کے عہدے پر ترقی دی گئی تھی۔ وہ اس سے قبل کاؤنٹر انٹلی جنس سیل میں انڈر کور آپریشن اور سی آئی ڈی کے ویمن پروٹیکشن سیل میں ڈی آئی جی کے طور پر بھی گراں قدر خدمات انجام دے چکی ہیں۔