حیدرآباد

راشٹرپتی نیلائم دیکھنے والوں کی تعداد میں اضافہ

اس طرح راشٹرپتی نیلائم کے چمن، سبزہ زار، سر سبزی وشادابی اور راک گارڈن ان دنوں عوام کی توجہ کا مرکز بنے ہوئے ہیں۔ ہر سال صدر جمہوریہ کی راشٹرپتی نیلائم میں سرمائی چھٹیاں گزارنے کی روایت ہے۔

حیدرآباد: صدر جمہوریہ دروپدی مرمو، جنوبی ہند میں اپنی سرمائی قیامگاہ راشٹرپتی نیلائم میں 5دن گزارنے کے بعد قومی دارالحکومت دہلی روانہ ہوگئی ہیں جس کے بعد عوام کو اس ماہ کی 15 تاریخ تک بولارم میں واقع صدر جمہوریہ کی رہائش گاہ کو دیکھنے کی اجازت دی گئی ہے۔عوام کی بڑی تعداد اس کو دیکھنے کے لیے آرہی ہے۔

متعلقہ خبریں
صدر جمہوریہ دروپدی مرمو کی شہر آمد
اسلام کیخلاف سازشیں قدیم طریقہ کار‘ ناامید نہ ہونے مولانا خالد سیف اللہ رحمانی کا مشورہ
راہل نے خط لکھ کر مرمو سے اگنی ویر اسکیم میں مداخلت کرنے کا مطالبہ کیا
صدر مرمو کی حیدرآباد آمد
حیدرآباد کرکٹ اسوسی ایشن کے انتخابات

 اس طرح راشٹرپتی نیلائم کے چمن، سبزہ زار، سر سبزی وشادابی اور راک گارڈن ان دنوں عوام کی توجہ کا مرکز بنے ہوئے ہیں۔ ہر سال صدر جمہوریہ کی راشٹرپتی نیلائم میں سرمائی چھٹیاں گزارنے کی روایت ہے۔

چھٹیاں گزارنے کے بعد تلنگانہ کے دارالحکومت حیدرآباد سے ان کی قومی دارالحکومت واپسی کے بعد عوام کے لئے ہر سال صرف دس دن کیلئے راشٹرپتی نیلائم کو کھولا جاتا ہے۔

 اس کے چمن، سبزہ زار اور خوب صورت نظاروں نے عوام کو اپنی طرف راغب کیا ہے اوربڑی تعداد میں لوگ ان قدرتی نظاروں کو دیکھنے کے لئے یہاں آرہے ہیں۔

تلنگانہ کے سکندرآباد کے بولارم کے 97ہیکٹرس پریہ راشٹرپتی نیلائم پھیلا ہوا ہے۔اس کونظام حیدرآباد کے دور میں تعمیر کیاگیا تھا۔اس میں کئی قسم کے پھول اور پھل کے درخت ہیں،16کمروں والے اس نیلائم میں دربار محل، ڈائننگ ہال کی علحدہ شناخت ہے۔

اس کی زیرزمین سرنگ کشش کی سبب بنی ہوئی ہے۔ راک گارڈن، آبشار بچوں کے لئے کشش کا سبب بنے ہوئے ہیں۔اس کو دیکھنے والوں نے کہا کہ یہاں کے نظارے واقعی کافی خوب صورت ہیں اور یہاں کے چمن، نظاروں اور آبشاروں کی بہتر طورپرنگرانی اور دیکھ بھال کی گئی ہے۔راک گارڈن میں 1830درخت لگائے گئے ہیں۔

اس کے علاوہ بغیر میووں کے مختلف اقسام کے درخت بھی لگائے گئے۔ اس پارک میں سات رنگوں کے 13اقسام کے درخت لگائے گئے۔ اس پارک میں جملہ 737درخت لگائے گئے ہیں۔

 صندل‘سرخ صندل اور روز ووڈ کے 550درختوں کی شجرکاری کی گئی ہے۔ ایک تتلیوں کے گارڈن کو بھی ترقی دی گئی ہے۔ اسے تتلی کی شکل میں بنایا گیا۔ اس میں چھوٹے درخت لگائے گئے ہیں تاکہ تتلیاں یہاں راغب ہوسکیں۔

تلنگانہ حکومت کے سرسبزی وشادابی کے ہریتاہرم پروگرام کے تحت 30مختلف نوعیت کے 495جاپانی درخت بھی یہاں لگائے گئے جس سے حیاتیاتی تنوع میں اضافہ ہوتا ہے۔ اس کے ذریعہ یہاں آنے والوں کو بہت معلومات حاصل ہورہی ہیں۔

 تلنگانہ میں پائے جانے والے 901درخت بھی یہاں لگائے گئے۔ مغربی گھاٹوں کے لکڑی کے درخت جو حیدرآباد کی فضاء میں اگ سکتے ہیں۔ وہ بھی لگائے گئے۔ایک خاتون نے کہاکہ یہاں بچوں کو ساتھ لانا چاہئے کیونکہ یہ تعطیل مناسب طورپرمنانے کے لئے ایک موزوں مقام ہے، یہاں کے نظارے کافی خوب صورت ہیں۔

یہاں کے نظارے شہر کے کسی بھی چمن یا پھر تفریحی مقام پر نہیں ہیں۔شہر میں آلودگی کا خدشہ رہتا ہے تاہم یہاں آکر قدرتی نظاروں اور آلودگی سے پاک ماحول کا احساس ہوا۔

یہاں ان نظاروں کو دیکھنے والے بچوں نے بھی مسرت کااظہار کیا۔یہ بچے ان نظاروں سے نہ صرف لطف اندوز ہوئے بلکہ متاثر کئے بغیر نہیں رہ سکے۔ اس میں ہربل گارڈن‘طبی پودوں کے علحدہ باغات وغیرہ شامل ہیں۔

a3w
a3w