آندھراپردیش

صدرجمہوریہ کی توہین دراصل پورے ملک کی توہین کے مترادف: چندرابابو

وزیر اعلیٰ چندر بابو نائیڈو نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (ٹویٹر) پر اپنے پیغام میں لکھا کہ صدرجمہوریہ کی توہین دراصل پورے ملک کی توہین کے مترادف ہے۔ انہوں نے یاد دلایا کہ ایک مضبوط جمہوریت میں آئینی عہدے سیاست سے بالاتر ہوتے ہیں اور صدر کا عہدہ ہمارے جمہوری نظام کی عزت و وقار کی علامت ہے۔

حیدرآباد: صدرجمہوریہ دروپدی مرمو کو اپنے حالیہ دورہ مغربی بنگال کے دوران تلخ تجربات کا سامنا کرنا پڑا جس پر ملک بھر میں تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے۔

متعلقہ خبریں
پارٹی کو جانشینوں کے حوالے کرنے کی ذمہ داری لیں۔ کیڈر کو چیف منسٹر نائیڈو کا مشورہ
صدر جمہوریہ کے خلاف حکومت ِ کیرالا کا سپریم کورٹ میں مقدمہ
تروپتی لڈو کی تیاری، جانوروں کی چربی کا استعمال: چندرا بابو نائیڈو کا الزام
وقت بدلتے دیر نہیں لگتی: نتیش کمار اور چندرابابونائیڈو کو کانگریس قائد کا انتباہ
قومی سیاست میں نائیڈو کو بادشاہ گرکا کردار ادا کرنیکا پھر موقع

ممتا بنرجی حکومت کی جانب سے پروٹوکول کی خلاف ورزیوں اور صدر کے عہدہ کے تئیں مبینہ بے رخی پر آندھرا پردیش کے وزیر اعلیٰ این چندر بابو نائیڈو نے سخت ردعمل کا اظہار کیا ہے۔


وزیر اعلیٰ چندر بابو نائیڈو نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (ٹویٹر) پر اپنے پیغام میں لکھا کہ صدرجمہوریہ کی توہین دراصل پورے ملک کی توہین کے مترادف ہے۔ انہوں نے یاد دلایا کہ ایک مضبوط جمہوریت میں آئینی عہدے سیاست سے بالاتر ہوتے ہیں اور صدر کا عہدہ ہمارے جمہوری نظام کی عزت و وقار کی علامت ہے۔

انہوں نے افسوس ظاہر کیا کہ صدرجمہوریہ کے تئیں کم شائستگی اور احترام کا فقدان نہ صرف اس عہدے کی تذلیل ہے بلکہ ملک کی آئینی روح کے خلاف بھی ہے۔


واضح رہے کہ صدر دروپدی مرمو سلی گڑی میں منعقدہ بین الاقوامی سنتھال قبائلی کانفرنس میں شرکت کے لئے پہنچی تھیں لیکن روایت کے برعکس ان کے استقبال کے لیے نہ تو وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی آئیں اور نہ ہی ریاستی کابینہ کا کوئی وزیر موجود تھا۔

اس پر صدر نے خود دکھ کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ شاید وزیر اعلیٰ ان سے ناراض ہیں، اسی لئے انہوں نے کم از کم مروت کا بھی مظاہرہ نہیں کیا۔

سیکیورٹی وجوہات کا حوالہ دے کر آخری لمحات میں کانفرنس کی جگہ کو ایک چھوٹے میدان میں منتقل کر دیا گیا جس کی وجہ سے ہزاروں قبائلی افراد اپنی صدر سے ملاقات نہیں کر سکے۔

چندرا بابو نائیڈو نے زور دے کر کہا کہ سیاسی اختلافات اپنی جگہ لیکن اعلیٰ آئینی اداروں کے تقدس کو برقرار رکھنا ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے اور ایسے واقعات جمہوریت کی اقدار کے لیے نقصان دہ ہیں۔