مشرق وسطیٰ

ایران ایٹمی ہتھیار بنانے کے قریب ، ایران نے عالمی دباؤ کے آگے نہ جھکنے کے عزم کیا

ویٹکوف کے مطابق امریکہ کو تشویش ہے کہ ایران ایٹمی ہتھیار بنانے کی صلاحیت کے قریب پہنچ چکا ہے

واشنگٹن :  ایران اور امریکہ کے درمیان ممکنہ نئے ایٹمی مذاکرات سے قبل واشنگٹن نے تہران پر دباؤ میں اضافہ کر دیا ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے خصوصی ایلچی اسٹیو ویٹکوف نے واضح کیا ہے کہ ایران کو عملی طور پر ثابت کرنا ہوگا کہ وہ اپنے طرزِ عمل میں تبدیلی لانے کے لیے سنجیدہ ہے، جبکہ تہران نے عالمی دباؤ کے آگے نہ جھکنے کے عزم کا اعادہ کیا ہے۔

ایران اور امریکہ کے درمیان ایٹمی مذاکرات کے اگلے مرحلے کا انتظار کیا جا رہا ہے، تاہم سفارتی بیانات میں سختی برقرار ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے خصوصی ایلچی اسٹیو ویٹکوف نے فاکس نیوز کو دیے گئے انٹرویو میں کہا کہ مذاکراتی عمل کے دوران صدر ٹرمپ ایرانی قیادت پر دباؤ ڈال رہے ہیں اور یہ دباؤ جاری رہے گا۔
ویٹکوف کے مطابق امریکہ کو تشویش ہے کہ ایران ایٹمی ہتھیار بنانے کی صلاحیت کے قریب پہنچ چکا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران ممکنہ طور پر ایٹم بم کی تیاری سے محض ایک ہفتے کی دوری پر ہے اور امریکہ اسے کسی صورت ممکن نہیں ہونے دے گا۔ انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ ایران کی یورینیم افزودگی کی سطح سویلین مقاصد سے کہیں زیادہ ہے۔
امریکی ایلچی نے مزید کہا کہ صدر ٹرمپ اس بات پر حیران ہیں کہ سخت پابندیوں اور دباؤ کے باوجود ایرانی قیادت نے ابھی تک پسپائی اختیار نہیں کی۔دوسری جانب ایرانی صدر مسعود بزشکیان نے ہفتے کے روز اپنے بیان میں واضح کیا کہ ایران ایٹمی مذاکرات کے تناظر میں عالمی طاقتوں کے دباؤ کے سامنے سر نہیں جھکائے گا۔

متعلقہ خبریں
پرینکا چوپڑا نے بالی ووڈ چھوڑنے کی وجہ بتاتی
ڈاکٹر مہدی کا محکمہ ثقافتی ورثہ و آثار قدیمہ تلنگانہ کا دورہ، مخطوطات کے تحفظ کے لیے ایران سے ماہرین کی خدمات حاصل کرنے کا فیصلہ
امریکہ کا ایٹمی ہتھیاروں کی تعداد میں اضافے کا فیصلہ
ایران میں زہریلی شراب پینے سے مہلوکین کی تعداد 26ہوگئی
اسرائیل کو سخت ترین سزا دینے كیلئے حالات سازگار ہیں:علی خامنہ ای

ادھر ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے انکشاف کیا ہے کہ تہران آئندہ دو روز کے اندر ثالثوں کے ذریعے امریکی فریق کو کسی ممکنہ معاہدے یا قابلِ قبول حل کا مسودہ پیش کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔یہ پیش رفت ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب ڈونلڈ ٹرمپ نے گذشتہ عرصے کے دوران مشرق وسطیٰ میں امریکی افواج کی بڑے پیمانے پر تعیناتی اور ایران پر ممکنہ فضائی حملے کے لیے تیار رہنے کا حکم دیا ہے جو کئی ہفتوں تک جاری رہ سکتا ہے۔

امریکی صدر نے رواں برس جنوری کے آغاز میں ان احتجاجی مظاہروں کو دبانے کے لیے ایرانی حکومت کی جانب سے کی جانے والی سفاکیت کے جواب میں حملوں کی دھمکی دی تھی جو پورے ملک میں پھیل گئے تھے تاہم بعد میں وہ اس سے پیچھے ہٹ گئے تھے۔حالیہ عرصے میں انہوں نے اپنی فوجی دھمکیوں کو ایران کے ایٹمی پروگرام کے خاتمے کے مطالبات سے جوڑ دیا ہے اور نظام کی تبدیلی کا خیال بھی پیش کیا ہے لیکن انہوں نے یا ان کے معاونین نے یہ واضح نہیں کیا کہ فضائی حملے اس ہدف کو کیسے حاصل کر سکتے ہیں۔

وائٹ ہاؤس کے ایک اعلیٰ عہدیدار نے وضاحت کی کہ تہران کے خلاف ڈونلڈ ٹرمپ کے جارحانہ بیان کے باوجود اب تک ان کی انتظامیہ کے اندر کسی بھی حملے کے لیے کوئی متحد حمایت موجود نہیں ہے جیسا کہ روئیٹرز نے رپورٹ کیا ہے۔واضح رہے کہ ایرانی اور امریکی فریقین نے رواں ماہ فروری سنہ 2026ء کے دوران غیر براہ راست ایٹمی مذاکرات کے دو دور مکمل کیے ہیں جن میں سے ایک مسقط اور دوسرا جنیوا میں ہوا اور دونوں نے ماحول کو مثبت قرار دیا ہے۔ اب جلد ہی تیسرے دور کے انعقاد کا امکان ہے تاہم دونوں فریقوں نے ابھی تک اس کی تاریخ طے نہیں کی ہے۔