شمال مشرق

ایران کی تصدیق پاسدارانِ انقلاب کے بحری سربراہ علی رضا تنگسیری شہید

انہوں نے اپنی زندگی کا بڑا حصہ اسلامی جمہوریہ ایران کے بحری دفاع کو مضبوط بنانے میں صرف کیا۔" بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق، یہ کارروائی ایرانی ساحلی شہر بندر عباس میں کی گئی تھی، جہاں ایک اسٹریٹجک مقام کو نشانہ بنایا گیا تھا۔

تہران : ایران نے باضابطہ طور پر پاسدارانِ انقلاب ( آئی آر جی سی ) کی بحریہ کے کمانڈر، ریئر ایڈمرل علی رضا تنگسیری کی شہادت کی تصدیق کر دی ہے۔  وہ چند روز قبل ایک حملے میں شدید زخمی ہوئے تھے اور زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے خالقِ حقیقی سے جا ملے۔

متعلقہ خبریں
ایران عالمِ اسلام کی پہلی دفاعی لائن ہے صیہونی صرف طاقت کی زبان سمجھتے ہیں
ڈاکٹر مہدی کا محکمہ ثقافتی ورثہ و آثار قدیمہ تلنگانہ کا دورہ، مخطوطات کے تحفظ کے لیے ایران سے ماہرین کی خدمات حاصل کرنے کا فیصلہ
ایران میں زہریلی شراب پینے سے مہلوکین کی تعداد 26ہوگئی
اسرائیل کو سخت ترین سزا دینے كیلئے حالات سازگار ہیں:علی خامنہ ای
قدر و قیمت میں ہے خُوں جن کا حرم سے بڑھ کر

ایرانی پاسدارانِ انقلاب کے تعلقاتِ عامہ کے شعبے کی جانب سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ”کمانڈر علی رضا تنگسیری، جو گذشتہ چند روز سے شدید زخمی تھے، جامِ شہادت نوش کر گئے ہیں۔ انہوں نے اپنی زندگی کا بڑا حصہ اسلامی جمہوریہ ایران کے بحری دفاع کو مضبوط بنانے میں صرف کیا۔” بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق، یہ کارروائی ایرانی ساحلی شہر بندر عباس میں کی گئی تھی، جہاں ایک اسٹریٹجک مقام کو نشانہ بنایا گیا تھا۔

اسرائیلی وزیرِ دفاع نے 26 مارچ کو ہی یہ دعویٰ کیا تھا کہ ایک "درست اور مہلک آپریشن” میں علی رضا تنگسیری سمیت کئی اعلیٰ بحری افسران کو نشانہ بنایا گیا ہے۔ اسرائیلی حکام کا کہنا ہے کہ ایڈمرل تنگسیری آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی اور وہاں بارودی سرنگیں بچھانے کے آپریشنز کے براہِ راست ذمہ دار تھے۔علی رضا تنگسیری 2018 سے ایرانی پاسدارانِ انقلاب کی بحریہ کی قیادت کر رہے تھے۔ وہ خلیج فارس میں امریکی اور غیر ملکی بحری بیڑوں کی موجودگی کے سخت مخالف تھے اور اکثر انہیں "شارک مچھلیوں کی خوراک” بنانے جیسی وارننگز دیتے تھے۔

ان کے دور میں ایران نے ہزاروں کی تعداد میں اینٹی شپ میزائل، ڈرونز اور تیز رفتار کشتیوں کو اپنے بحری بیڑے میں شامل کیا۔ وہ آبنائے ہرمز کے کنٹرول کے حوالے سے ایران کے سب سے اہم عسکری دماغ تصور کیے جاتے تھے