نیتن یاہو کیلئے اقتدار بچانا مشکل؟نئی حکومت تشکیل دینے امیدوار کا اعلان
اسرائیل کے صدر اسحاق ہرزوگ نے کہا ہے کہ وہ اتوار تک ملک میں نئی حکومت تشکیل دینے کے لیے ایک امیدوار کو نامزد کریں گے۔ یہ اعلان پارلیمنٹ کے ارکان کی اکثریت کی جانب سے وزیر اعظم بنجامن نیتن یاہو کے مقابلے میں اپوزیشن رہنما گادی آئزن کوٹ کی حمایت کے بعد سامنے آیا ہے۔
نئی دہلی: اسرائیل کے صدر اسحاق ہرزوگ نے کہا ہے کہ وہ اتوار تک ملک میں نئی حکومت تشکیل دینے کے لیے ایک امیدوار کو نامزد کریں گے۔ یہ اعلان پارلیمنٹ کے ارکان کی اکثریت کی جانب سے وزیر اعظم بنجامن نیتن یاہو کے مقابلے میں اپوزیشن رہنما گادی آئزن کوٹ کی حمایت کے بعد سامنے آیا ہے۔
ہرزوگ نے جمعرات کو 120 رکنی پارلیمنٹ (نیسٹ) میں منتخب ہونے والی سیاسی جماعتوں کے ساتھ طویل مشاورت کے بعد یہ اعلان کیا۔ ان مشاورتوں کے دوران سابق فوجی سربراہ آئزن کوٹ کو 67 ارکان پارلیمنٹ نے حکومت تشکیل دینے کے لیے اپنی حمایت دی، جبکہ 46 ارکان نے نیتن یاہو کی حمایت کی۔
مشاورت کے اختتام پر ٹیلی ویژن پر خطاب کرتے ہوئے ہرزوگ نے کہا کہ اگرچہ مشاورت کے نتائج بظاہر واضح دکھائی دیتے ہیں، لیکن مختلف سیاسی اتحادوں اور خود ان کے اندر ایک دوسرے کے خلاف ویٹو کے باعث یہ طے کرنا مشکل ہے کہ کون سا امیدوار حکومت بنانے کے لیے درکار اتحاد تشکیل دینے کی بہتر پوزیشن میں ہے۔
انہوں نے کہا کہ وہ جمعہ اور ہفتہ کو بعض سیاسی جماعتوں کے سربراہوں سے انفرادی طور پر بات چیت کریں گے اور اتوار کو کسی امیدوار کو نامزد کرنے کا فیصلہ کریں گے۔اسرائیل میں 27 اکتوبر کو ہونے والے انتخابات کے نتیجے میں نہ تو نیتن یاہو اور نہ ہی آئزن کوٹ کو پارلیمنٹ میں واضح اکثریت حاصل ہو سکی، جس کے باعث منقسم سیاسی منظرنامے میں صدر ہرزوگ کے لیے امیدوار کا انتخاب ایک مشکل مرحلہ بن گیا ہے۔
نیتن یاہو کی جماعت لیکوڈ 120 رکنی کنیسٹ میں 27 نشستوں کے ساتھ سب سے بڑی واحد جماعت بن کر ابھری، لیکن ان کے وسیع تر مذہبی قوم پرست اتحاد کو مجموعی طور پر صرف 53 نشستیں حاصل ہوئیں۔دوسری جانب آئزن کوٹ کے چار یہودی اکثریتی جماعتوں پر مشتمل اتحاد نے، جس میں مرکز سے بائیں بازو اور دائیں بازو تک کی جماعتیں شامل ہیں، 48 نشستیں حاصل کیں۔ انتخابات سے قبل رائے عامہ کے جائزوں میں دونوں جانب سخت مقابلے کی پیش گوئی کی گئی تھی۔
اسرائیل کی فلسطینی اقلیت کی نمائندگی کرنے والی دو جماعتوں نے مجموعی طور پر 19 نشستیں حاصل کیں، جو ایک غیر معمولی کامیابی ہے۔ آئزن کوٹ نے بھی نیتن یاہو کی طرح عرب قیادت والی جماعتوں کے ساتھ حکومت بنانے کے امکان کو مسترد کیا ہے، تاہم ان دونوں جماعتوں نے اس کے باوجود آئزن کوٹ کی حمایت کی سفارش کی، جس سے انہیں ارکان پارلیمنٹ کی واضح اکثریت کی تائید حاصل ہوگئی۔
عرب جماعتوں کے اتحاد جوائنٹ لسٹ کے سینئر رہنما احمد طیبی نے ایسوسی ایٹڈ پریس سے گفتگو کرتے ہوئے کہا، ”ہم اس مجرمانہ حکومت کو ہٹانے کے لیے وہ اقدامات کرنا چاہتے ہیں جو ہم نے ماضی میں نہیں کیے۔”آئزن کوٹ کی جماعت یاشار نے کہا کہ انہیں 67 ارکان پارلیمنٹ کی حمایت حاصل ہوئی ہے، جو 2015 کے بعد سے کسی بھی امیدوار کو ملنے والی سب سے زیادہ حمایت ہے۔
جماعت نے صدر ہرزوگ سے مطالبہ کیا کہ وہ جلد از جلد آئزن کوٹ کو حکومت تشکیل دینے کا اختیار دیں تاکہ وہ قومی ہنگامی حکومت قائم کر سکیں۔ادھر نیتن یاہو کو جمعرات کو اس وقت ایک اور سیاسی دھچکا لگا جب طویل عرصے سے ان کی اتحادی الٹرا آرتھوڈوکس جماعت یونائیٹڈ توراہ جوڈازم نے کسی بھی امیدوار کی حمایت کرنے سے انکار کر دیا۔
ٹائمز آف اسرائیل کے مطابق، اس جماعت نے نیتن یاہو سے اس معاملے پر اختلاف کے بعد فاصلہ اختیار کیا ہے کہ ان کے اتحاد نے الٹرا آرتھوڈوکس مردوں کو فوجی خدمات سے مستثنیٰ قرار دینے کے لیے قانون سازی نہیں کی۔آئزن کوٹ کے اتحاد میں شامل جماعت ڈیموکریٹس کے رہنما یاریو اوپن ہائیمر نے الجزیرہ سے کہا کہ انہیں کوئی وجہ نظر نہیں آتی کہ صدر ہرزوگ اتوار کو آئزن کوٹ کو حکومت تشکیل دینے کا اختیار نہ دیں۔