کیا بجلی کنکشن کیلئے اکیوپینسی اور منظورہ لے آؤٹ لازمی ہے؟ عدالت کا اہم فیصلہ
ہم لوگ ایک اوپن پلاٹ خریدے ہیں اور اس پلاٹ پر بلڈنگ تعمیر کر رہے ہیں۔ تقریباً کام مکمل ہو چکا ہے۔ ہم برقی کنکشن حاصل کرنا چاہتے ہیں تاہم ہمارا جو کنسٹرکشن انجام دے رہے ہیں وہ انجینئر کا کہنا ہے کہ ہم بغیر Occupancy Certificate اکیوپینسی سرٹیفکیٹ اور بغیر رجسٹرڈ لے آؤٹ کے برقی کنکشن حاصل نہیں کر سکتے۔
سوال: ہم لوگ ایک اوپن پلاٹ خریدے ہیں اور اس پلاٹ پر بلڈنگ تعمیر کر رہے ہیں۔ تقریباً کام مکمل ہو چکا ہے۔ ہم برقی کنکشن حاصل کرنا چاہتے ہیں تاہم ہمارا جو کنسٹرکشن انجام دے رہے ہیں وہ انجینئر کا کہنا ہے کہ ہم بغیر Occupancy Certificate اکیوپینسی سرٹیفکیٹ اور بغیر رجسٹرڈ لے آؤٹ کے برقی کنکشن حاصل نہیں کر سکتے۔ ہمیں بلدیہ کی جانب سے جاری کئے جانے والا اکیوپینسی سرٹیفکیٹ حاصل کرنا ہوگا اور لے آؤٹ بھی رجسٹر کروانا ہوگا۔
جس کے لئے ہم کو مزید رقم دینی ہوگی کیونکہ یہ دونوں امور کی تکمیل کے بعد ہی برقی کنکشن حاصل ہوگا ورنہ برقی کنکشن نہیں ملے گا۔ اس معاملہ میں ہم تذبذب میں مبتلا ہیں۔ کیا ہم کو یہ دونوں سرٹیفکیٹس فی الواقعی حاصل کرنے پڑیں گے۔
اس کے بارے میں کیا قانونی موقف ہے۔ ہماری رہنمائی فرمائیں کیونکہ ہم لوگ بہت زیادہ پریشان ہیں۔ ہم نے پہلے ہی کنسٹرکشن پر کافی پیسہ صرف کیا ہے۔ عمارت کی تعمیر بھی قریب الختم ہے۔ لہذا آپ اس سلسلہ میں ہمیں مناسب مشورہ دیں تو بڑی مہربانی ہوگی۔
جواب: آپ کا جو مسئلہ ہے۔ اس تعلق سے سپریم کورٹ کا ایک ججمنٹ آیا تھا کہ بغیر ایکوپینسی سرٹیفکیٹ کے برقی کا کنکشن نہیں دیا جانا چاہئے اور 10 فٹ سے بلند و بالا عمارت کے لئے یہ لزوم رکھا گیا۔ تلنگانہ ہائی کورٹ نے بھی کئی رٹ پٹیشنس پر حالیہ دنوں میں ایسا ہی فیصلے صادر کئے ہیں کہ اکیوپینسی سرٹیفکیٹ یا کامپلیشن سرٹیفکیٹ نہ ہونے پر متعلقہ اتھارٹیز کی جانب سے برقی سروس کنکشن ہرگز نہیں دیا جا سکتا ہے۔
برقی سروس کنکشن اس بنیاد پر بھی نہیں دیا جا سکتا ہے کہ اکیوپینسی سرٹیفکیٹ اور کامپلیشن سرٹیفکیٹ بعد میں سبمٹ یا داخل کیا جائے گا۔ اس طرح کے وعدہ پر بھی کنکشن نہیں دیا جا سکتا ہے۔ جہاں تک لے آؤٹس کا معاملہ ہے اور بلند و بالا عمارتوں کا تعلق ہے۔ اس طرح کا قانون نافذ العمل ہے۔ تاہم اب حالیہ دنوں میں آندھرا پردیش ہائی کورٹ کا ایک اہم ججمنٹ آیا ہے۔
یہ بالکل تازہ ججمنٹ ہے۔ جسٹس وینکٹیشورلو نماگڈہ کی جانب سے یہ ججمنٹ دیا گیا ہے۔ یہ ججمنٹ ڈبلیو پی 16579 آف 2026 کی رٹ پٹیشن نمبر کے تحت صادر کیا گیا ہے۔ ججمنٹ میں معزز جج نے وضاحت کر دی ہے کہ لے آؤٹ کا نہ ہونا اور منظورہ لے آؤٹ نہ ہونا یہ بنیاد نہیں ہو سکتی کہ کسی کو بھی برقی سروس کنکشن سے روکا جائے۔
معزز جج نے یہاں تک بھی کہہ دیاکہ کنکشن حاصل کرنا ہر مالک جائیداد کا حق ہے اور اس حق سے مالک جائیداد کو محروم نہیں کیا جا سکتا۔ معزز جج نے جنرل ٹرمس اینڈ کنڈیشن آف الکٹریسٹی سپلائی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس ٹرمس اینڈ کنڈیشن میں کہیں بھی یہ نہیں ہے کہ اکیوپینسی سرٹیفکیٹ یا کامپلیشن سرٹیفکیٹ کے بغیر برقی کنکشن نہیں دیا جا سکتا۔
آندھرا پردیش ہائی کورٹ نے مزید کہا کہ ہر وہ شخص جس کے پاس ایک رجسٹرڈ سیل ڈیڈ ہے یا وہ شخص جس کے پاس ڈاکیومنٹ نہیں ہے لیکن وہ جائیداد پر قابض ہے اگر قبضہ ڈاکیومنٹ کی بنیاد پر ہو یا ڈاکیومنٹ کے بغیر قبضہ ہو تو یہ دونوں صورتوں میں بغیر کوئی اونرشپ کا ثبوت مانگے محکمہ برقی کو چاہئے کہ وہ برقی کنکشن فراہم کرے۔ کسی کو بھی یہ کہتے ہوئے برقی کنکشن سے محروم نہیں کیا جا سکتا کہ اس کے پاس میونسپل اسسمنٹ نہیں ہے۔ ہاؤز نمبر الاٹ نہیں ہوا ہے۔
لے آؤٹ منظورہ نہیں ہے۔ ان باتوں کو کبھی بھی بنیاد نہیں بنایا جا سکتا اور برقی کنکشن سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ آندھرا پردیش ہائی کورٹ نے زمینی سطح کی صورتحال کو مد نظر رکھتے ہوئے ایسا فیصلہ صادر کیا ہےکیونکہ ایسے کئی لوگ ہیں جن کے غیر منظورہ لے آؤٹس کی کالونیز اور علاقوں میں مکانات ہیں۔ ان کو کنکشن سے محروم نہیں کیا جاسکتا کیونکہ برقی کنکشن ہر ایک کا بنیادی حق ہے۔ آج برقی کنکشن کے بغیر انسانی زندگی کا تصور محال ہے۔
اکیوپینسی سرٹیفکیٹ یا کامپلیشن سرٹیفکیٹ کی جہاں تک بات کی جا رہی ہے وہ 10 فٹ سے بلند و بالا عمارتوں کے لئے رول ہے اور تلنگانہ ہائی کورٹ کے بھی اس تعلق سے فیصلے ہیں۔ جہاں پر گھر ہیں یعنی کہ 10 فٹ سے کم سطح کے مکانات ہیں۔ ان کے لئے ایسا کوئی رول نہیں ہے کہ بغیر اکیوپینسی یا کامپلیشن سرٹیفکیٹ کے ان کو برقی کنکشن نہیں دیا جا سکتا۔ حکومتوں کو چاہئے کہ وہ عوام کی ضروریات کو مد نظر رکھتے ہوئے رولس بنائے کیونکہ ہمیں ایک بات غور کرنی چاہئے کہ الکٹریسٹی کنکشن کون طلب کرتا ہے۔
جہاں چھت ہوتی ہے۔ جہاں پر مکان بنا ہوا ہوتا ہے۔ جس مکان میں افراد رہتے ہیں۔ اسی جگہ کے لئے برقی کا کنکشن مانگا جاتا ہے۔ کوئی کھلے پلاٹ میں برقی کنکشن یا میٹر نہیں لگا سکتے۔ آپ نے زمین خریدی ہے۔ اپنا گھر بنا لیا ہے۔ گھر میں آپ کو رہنا ہے۔ اس کے لئے برقی کنکشن طلب کیا جاتا ہے تب حکومت کا یہ کہنا کہ ہم برقی کنکشن فلاں دستاویزات یا سرٹیفکیٹس کی بنیاد پر ہی دیں گے۔
یہ بالکل درست بات نہیں ہے۔ لہذا آپ اے پی ہائی کورٹ کے ججمنٹ کو بنیاد بناتے ہوئے کچھ حد تک اپنے لئے راحت حاصل کرنے کی کوشش کر سکتے ہیں۔ آپ کو چاہئے کہ آپ قانون کی مدد لیں اور اپنے گھر کے لئے برقی کنکشن کے حصول کو یقینی بنائیں۔