بین الاقوامی

ایمیزون میں پھر کچھ بڑا ہونے جا رہا ہے؟

ای کامرس کی معروف کمپنی ایمیزون نے ایک بار پھر بڑے پیمانے پر ملازمین کی تعداد میں کمی کا اعلان کیا ہے۔ کمپنی کے مطابق دنیا بھر میں ایک ہزار سے زائد ملازمین کو ملازمت سے ہٹایا گیا ہے، جس کا اثر ہندوستان، امریکہ، برطانیہ سمیت کئی ممالک میں کمپنی کی ریٹیل ٹیموں پر پڑا ہے۔

نئی دہلی: ای کامرس کی معروف کمپنی ایمیزون نے ایک بار پھر بڑے پیمانے پر ملازمین کی تعداد میں کمی کا اعلان کیا ہے۔ کمپنی کے مطابق دنیا بھر میں ایک ہزار سے زائد ملازمین کو ملازمت سے ہٹایا گیا ہے، جس کا اثر ہندوستان، امریکہ، برطانیہ سمیت کئی ممالک میں کمپنی کی ریٹیل ٹیموں پر پڑا ہے۔

رائٹرز اور بزنس انسائیڈر کی رپورٹس کے مطابق تازہ برطرفیاں ایمیزون کے ’اسٹورز‘ بزنس یونٹ سے وابستہ ملازمین کی ہوئی ہیں، جو کمپنی کی ای کامرس ویب سائٹ کے آپریشنز کی نگرانی کرتا ہے۔ ایمیزون کے ایک ترجمان نے رائٹرز کو بتایا کہ کمپنی نے اپنی ترجیحات کو بہتر انداز میں پورا کرنے کے لیے اسٹورز بزنس میں کچھ تبدیلیاں کی ہیں، تاہم برطرف کیے گئے ملازمین کی صحیح تعداد ظاہر نہیں کی گئی۔

کمپنی ذرائع کے مطابق یہ تازہ ملازمتوں میں کمی ایمیزون کے مستقبل میں تقریباً 30 ہزار ملازمتیں ختم کرنے کے وسیع منصوبے کا حصہ ہے۔

ایمیزون کے بانی جیف بیزوس نے بھی کمپنی میں موجودہ ملازمتوں میں کمی کی ایک وجہ کورونا وبا کے دوران ضرورت سے زیادہ بھرتیوں کو قرار دیا ہے۔ فاکس نیوز کو دیے گئے ایک انٹرویو میں بیزوس نے کہا کہ کورونا کے دوران لوگ گھروں تک محدود ہوگئے تھے اور آن لائن خریداری میں زبردست اضافہ ہوا تھا، جس کے باعث کمپنی نے ضرورت سے زیادہ ملازمین بھرتی کیے تھے۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ ہندوستان میں ایمیزون کی ’گریٹ انڈین فیسٹیول‘ سیل اور دنیا بھر میں ’پرائم بگ ڈیل ڈیز‘ سیل کے آغاز کے دوران ہی ملازمین کی برطرفی کا یہ اعلان سامنے آیا ہے۔

رپورٹس کے مطابق منگل کے روز کمپنی کے اعلیٰ حکام نے متاثرہ ملازمین کو ای میل کے ذریعے ان کی ملازمت ختم کیے جانے کی اطلاع دی۔ اس کے بعد ملازمین نے کمپنی کے اندرونی سلیک چینلز پر سیورنس پیکیج، نوٹس پیریڈ اور ملازمت کے دیگر مواقع کے بارے میں تبادلہ خیال کیا۔

ایک طرف ایمیزون ملازمین کی تعداد کم کر رہا ہے، تو دوسری جانب کمپنی مصنوعی ذہانت یعنی آرٹیفیشل انٹیلیجنس کے شعبے میں بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری کی تیاری کر رہی ہے۔