اسرائیل نے ٹرمپ کے مجوزہ غزہ بورڈ آف پیس کو مسترد کر دیا
اسرائیل نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے مجوزہ غزہ بورڈ آف پیس کی تشکیل کو مسترد کرتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ اس معاملے کو امریکہ کے ساتھ باضابطہ طور پر اٹھایا جائے گا۔
اسرائیل نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے مجوزہ غزہ بورڈ آف پیس کی تشکیل کو مسترد کرتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ اس معاملے کو امریکہ کے ساتھ باضابطہ طور پر اٹھایا جائے گا۔
اسرائیلی وزیرِ اعظم بنیامین نیتن یاہو کے دفتر کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ غزہ بورڈ آف پیس کی تشکیل کے حوالے سے اسرائیلی حکومت سے کوئی مشاورت نہیں کی گئی، جبکہ یہ اقدام اسرائیلی پالیسی کے خلاف ہے۔
بیان کے مطابق اسرائیلی وزیرِ خارجہ گیدون ساعر اس معاملے کو اپنے امریکی ہم منصب مارکو روبیو کے ساتھ بات چیت میں اٹھائیں گے۔
وائٹ ہاؤس کی جانب سے سامنے لائے گئے نام نہاد بورڈ آف پیس کا مقصد امریکی منصوبے کے تحت محصور فلسطینی علاقے میں جنگ کے بعد کے عبوری انتظامات کے دوران غزہ کے نظم و نسق کی نگرانی بتایا گیا ہے۔
گزشتہ روز وائٹ ہاؤس نے بورڈ کے متعدد ارکان کے ناموں کا اعلان کیا جن میں امریکی وزیرِ خارجہ مارکو روبیو، صدر ٹرمپ کے خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف، سابق برطانوی وزیرِ اعظم ٹونی بلیئر اور صدر ٹرمپ کے داماد جیرڈ کشنر شامل ہیں۔ بتایا گیا ہے کہ اس بورڈ کی سربراہی خود امریکی صدر کریں گے۔
یہ بورڈ صدر ٹرمپ کے اس منصوبے کا حصہ ہے جو غزہ جنگ کے خاتمے کے لیے پیش کیا گیا تھا۔ منصوبے کے مطابق ایک فلسطینی ٹیکنوکریٹ باڈی، ایک بین الاقوامی بورڈ کی نگرانی میں، عبوری مدت کے دوران غزہ کے انتظامی امور سنبھالے گی۔
تاہم فلسطینی حلقوں میں اس منصوبے پر شدید تحفظات پائے جاتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ بورڈ کے لیے نامزد کیے گئے زیادہ تر افراد اسرائیل اور غزہ جنگ کے حامی رہے ہیں، جس کے باعث خدشہ ہے کہ انصاف، تعمیرِ نو اور فلسطینیوں کے حقِ خودارادیت کے بجائے غلبے اور کنٹرول کو ترجیح دی جا سکتی ہے۔