تلنگانہ

آصف آباد میں فرقہ وارانہ تشدد, پولیس کی موجودگی میں مسجد اور دکانوں پر حملہ

رپورٹس کے مطابق، ایک مخصوص (اقلیتی) طبقہ کو نشانہ بنایا گیا، جس کے نتیجے میں ان کے مکانات، گاڑیاں، اور تجارتی ادارے نقصان کا شکار ہوئے۔

حیدرآباد: ضلع کمرم بھیم آصف آباد کے جینور منڈل کے موضع راگھاپور میں ایک آٹو ڈرائیور کی جانب سے قبائلی خاتون کی عصمت دری کی کوشش اور اس پر قاتلانہ حملے کے بعد، مستقر جینور میں فرقہ وارانہ تشدد شروع ہوگیا۔

متعلقہ خبریں
جمعیۃ علماء تلنگانہ وآندھرا پردیش کا مطالبہ: اصل خاطیوں کو گرفتار کرکے انصاف فراہم کیا جائے
ملک میں مسلمانوں کے خلاف بڑھتے حملوں پر مسلم پرسنل لا بورڈ کا اظہارِ تشویش، ملک گیر تحریک چلانے کا اعلان
اے پی سی آر تلنگانہ (APCR) کا ریاست گیر پیرالیگل ایکٹوسٹ و کارکنان کے لئے تربیتی پروگرام کا کامیاب اختتام
گورنمنٹ ڈگری کالج فلک نما میں انا–اکّا مینٹورشپ انٹرن شپ تربیتی پروگرام کا آغاز
محرم الحرام 2026 کے انتظامات پر بی جے پی وفد کی کمشنر پولیس حیدرآباد سے ملاقات

رپورٹس کے مطابق، ایک مخصوص (اقلیتی) طبقہ کو نشانہ بنایا گیا، جس کے نتیجے میں ان کے مکانات، گاڑیاں، اور تجارتی ادارے نقصان کا شکار ہوئے۔

مقامی ذرائع کے مطابق، 31 اگست کو آٹو ڈرائیور مخدوم کی جانب سے قبائلی خاتون پر حملے کے بعد، پولیس نے فوری طور پر ڈرائیور کو گرفتار کرکے جیل بھیج دیا۔ اس واقعے کے بعد قبائلیوں کی جانب سے جینور بند کا اعلان کیا گیا تھا، جس کے تحت 4 ستمبر کو تمام تجارتی ادارے بند رہے۔

تاہم، تشدد اس وقت شروع ہوا جب ہجوم نے ایک مخصوص طبقہ کے مکانات، موٹر گاڑیوں، تجارتی اداروں، اور ایک عبادت گاہ (جامع مسجد) کو نشانہ بنایا، جہاں موجود اشیاء کو نقصان پہنچایا گیا۔ اس دوران پولیس کی موجودگی کے باوجود تین گھنٹے تک تشدد جاری رہا، اور قیمتی اشیاء کو لوٹ کر دوکانوں کو آگ لگا دی گئی۔

عوام کا الزام ہے کہ پولیس نے جان بوجھ کر دنگائیوں کو چھوٹ دی، کیونکہ پولیس کی بھاری نفری کے باوجود تشدد کو روکنے کے لیے کوئی اقدامات نہیں کیے گئے۔ جینور کے اقلیتی طبقہ کا تقریباً 20 تا 25 کروڑ روپے کا معاشی نقصان ہوا، اور تمام دوکانیں اور کاروبار مکمل طور پر تباہ ہوگئے۔