اسرائیل نے جنوبی لبنان کی 8 بستیوں پر فاسفورس گولہ بارود استعمال کیا: رپورٹ
بین الاقوامی قانون کے تحت جنگی علاقوں میں فاسفورس گولہ بارود کا استعمال ممنوع ہے۔ اقوامِ متحدہ اور ریڈ کراس کے ضوابط کے مطابق شہری آبادی یا گنجان آباد علاقوں میں آتش گیر ہتھیاروں کا استعمال سختی سے منع ہے۔
بیروت: لبنانی نیشنل نیوز ایجنسی (این این اے) کے مطابق اسرائیلی توپخانے نے جنوبی لبنان کے آٹھ بستیوں پر فاسفورس گولے داغے۔
بین الاقوامی قانون کے تحت جنگی علاقوں میں فاسفورس گولہ بارود کا استعمال ممنوع ہے۔ اقوامِ متحدہ اور ریڈ کراس کے ضوابط کے مطابق شہری آبادی یا گنجان آباد علاقوں میں آتش گیر ہتھیاروں کا استعمال سختی سے منع ہے۔
یہ پابندی "کنونشن آن سرٹن کنوینشنل ویپنز” میں درج ہے، جو ایسے حملوں کو روکتا ہے جن سے غیر ضروری اور شدید انسانی تکلیف کا اندیشہ ہو۔ فاسفورس کے استعمال سے شدید جلنے کے زخم اور آگ لگنے کا خطرہ ہوتا ہے، اس لیے اسے شہریوں کے خلاف استعمال کرنا بین الاقوامی انسانی قانون کی خلاف ورزی اور ممکنہ جنگی جرم سمجھا جاتا ہے۔
اسرائیل کی قومی ہنگامی سروس ماگین ڈیوڈ ایڈوم (ایم ڈی اے) کے مطابق لبنان کی تنظیم حزب اللہ کی جانب سے کی گئی گولہ باری کے نتیجے میں شمالی اسرائیل میں ایک شخص ہلاک اور 11 زخمی ہوئے۔
لبنان نے بارہا اسرائیل پر اپنی خودمختاری کی منظم خلاف ورزی کا الزام لگایا ہے، حالانکہ نومبر 2024 میں جنگ بندی کا معاہدہ ہو چکا تھا۔ اسرائیلی فوج جنوبی لبنان کے پانچ اہم مقامات پر اب بھی موجود ہے، جن میں غجر گاؤں کا شمالی حصہ بھی شامل ہے۔ لبنانی حکام اسے مسلسل قبضہ اور اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد 1701 کی خلاف ورزی قرار دیتے ہیں۔
اسرائیلی فوج کا دعوی ہے کہ یہ حملے حزب اللہ کے فوجی بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنا رہے ہیں ۔ اسرائیل نے بار بار اس بات پر زور دیا ہے کہ وہ حزب اللہ کے فوجی ونگ کے رہنماؤں اور شیعہ تحریک سے لاحق خطرے کو ختم کرنے کے لیے لبنان پر حملہ جاری رکھے گا ۔