امریکہ و کینیڈا

اسرائیل اور لبنان کے رہنما 34 سال بعد آج بات چیت کریں گے: ڈونلڈ ٹرمپ

ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹرتھ سوشل پر بیان میں کہا کہ وہ اسرائیل اور لبنان کے درمیان کشیدگی کم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں اور دونوں رہنماؤں کے درمیان طویل عرصے بعد یہ رابطہ ایک مثبت پیش رفت ہے۔

واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا ہے کہ اسرائیل اور لبنان کے رہنما 34 برس بعد آج جمعرات کو پہلی بار براہِ راست بات چیت کریں گے۔

متعلقہ خبریں
تاریخی ڈیل مکمل، امریکہ اور ایران نے جنگ بندی معاہدے کی تصدیق کردی
جنگ بندی میں توسیع، عالمی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمتوں میں کمی
ایران نے امریکہ کے ساتھ مذاکرات سے انکار کیا تو اسے ‘بے مثال مسائل’ کا سامنا کرنا پڑے گا: ٹرمپ
ٹرمپ انتظامیہ نے گرین کارڈ حاصل کرنے کا عمل مزید سخت کردیا
وائٹ ہاؤس کورسپانڈنٹس ڈنر میں فائرنگ کرنے والا ملزم کول ایلن عدالت میں پیش


ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹرتھ سوشل پر بیان میں کہا کہ وہ اسرائیل اور لبنان کے درمیان کشیدگی کم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں اور دونوں رہنماؤں کے درمیان طویل عرصے بعد یہ رابطہ ایک مثبت پیش رفت ہے۔


انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان آخری بار تقریباً 34 سال قبل اعلیٰ سطح پر رابطہ ہوا تھا، جبکہ اب یہ بات چیت خطے میں امن کیلئے اہم قدم ثابت ہو سکتی ہے۔


یہ اعلان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ایک روز قبل واشنگٹن میں دونوں ممالک کے نمائندوں کے درمیان براہِ راست مذاکرات ہوئے، جن میں اسرائیلی حملوں کے خاتمے سمیت مختلف امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔


واضح رہے کہ لبنان 2 مارچ کو اس وقت جنگ میں شامل ہوا جب حزب اللہ نے اسرائیل پر حملے کیے، جو ایران کی حمایت یافتہ تنظیم ہے۔


حزب اللہ کے مطابق یہ حملے ایران کے سپریم لیڈر علی خامنہ ای کی شہادت کے ردعمل میں کیے گئے، جبکہ اسرائیل پر پہلے سے طے شدہ جنگ بندی کی خلاف ورزیوں کا بھی الزام عائد کیا گیا۔


رپورٹس کے مطابق اسرائیلی حملوں میں اب تک دو ہزار سے زائد افراد جاں بحق جبکہ دس لاکھ سے زیادہ افراد بے گھر ہو چکے ہیں۔


اسرائیلی فوج جنوبی لبنان میں زمینی کارروائیاں بھی جاری رکھے ہوئے ہے، جن کا مقصد مزید علاقوں پر کنٹرول حاصل کرنا اور ایک بفر زون قائم کرنا بتایا جا رہا ہے۔