تلنگانہ میں ذات پر مبنی سروے رپورٹ منظرِ عام پر، پسماندہ طبقات کی آبادی 56 فیصد سے زیادہ
پسماندہ طبقات کی بہبود کی وزیرپونم پربھاکر نے بدھ کے روز سکریٹریٹ میں ایک مشترکہ پریس کانفرنس کے دوران اس رپورٹ کے اجرا کا اعلان کیا۔ اس موقع پر وزیر واکیٹی سری ہری، ایم ایل سی اور پی سی سی صدر مہیش کمار گوڑ اور چیف سکریٹری کے. رام کرشنا راؤ بھی موجود تھے۔
حیدرآباد: تلنگانہ حکومت نے اپنی جامع سماجی، اقتصادی، تعلیمی، روزگار، سیاسی اور ذات پات پر مبنی سروے رپورٹ جاری کر دی ہے۔ اس رپورٹ کو عوامی سطح پر پیش کیا گیا ہے تاکہ ریاست کی آبادیاتی ساخت کی تفصیلی تصویر سامنے آ سکے۔
پسماندہ طبقات کی بہبود کی وزیرپونم پربھاکر نے بدھ کے روز سکریٹریٹ میں ایک مشترکہ پریس کانفرنس کے دوران اس رپورٹ کے اجرا کا اعلان کیا۔ اس موقع پر وزیر واکیٹی سری ہری، ایم ایل سی اور پی سی سی صدر مہیش کمار گوڑ اور چیف سکریٹری کے. رام کرشنا راؤ بھی موجود تھے۔
وزیر نے بتایا کہ اس رپورٹ پر ریاستی اسمبلی میں پہلے ہی بحث ہو چکی ہے اور حکومت نے ان نتائج کی بنیاد پر پسماندہ طبقات کے لیے 42 فیصد ریزرویشن کی درخواست کے ساتھ سپریم کورٹ سے رجوع کیا ہے۔
سروے کے مطابق ریاست کی کل 3,55,50,759 آبادی میں پسماندہ طبقات کا سب سے بڑا حصہ 56.33 فیصد ہے، جس میں 10.08 فیصد پسماندہ مسلمان شامل ہیں، جبکہ شیڈولڈ کاسٹ کی آبادی 17.43 فیصد، شیڈولڈ ٹرائب 10.45 فیصد اور دیگر طبقات (او سی/جنرل) 15.79 فیصد پر مشتمل ہیں۔
او سی زمرے کے اندر ریڈی برادری 30.47 فیصد کے ساتھ سب سے بڑا گروپ ہے، اس کے بعد او سی مسلمان (11.08فیصد)، ویشیا (9.07فیصد)، کَمّا (6.56فیصد)، برہمن (5.98فیصد) اور ویلما (2.56فیصد) شامل ہیں۔ قابلِ ذکر ہے کہ اس زمرے کے 21.49 فیصد افراد (تقریباً 12 لاکھ) نے اپنی ذات ظاہر نہیں کی۔
سروے میں تعلیم، روزگار، اراضی کی ملکیت، رہائش اور گاڑیوں تک رسائی کے حوالے سے واضح عدم مساوات کی نشاندہی کی گئی ہے، جہاں زمین کی ملکیت میں ریڈی برادری سرفہرست ہے اور اس کے بعد یادو، لمباڈا، مودی راج، مادیگا اور منّورو کاپو برادریوں کا نمبر آتا ہے۔
رپورٹ کے مطابق 56 بڑی ذاتوں کے درمیان سماجی و اقتصادی حیثیت میں نمایاں فرق پایا گیا، کچھ پسماندہ طبقات ترقی کے لحاظ سے اونچی ذاتوں کے برابر ہیں جبکہ ایس سی عیسائی اور کمسالی برادریاں ریاست کے اوسط انڈیکس کے مقابلے میں نسبتاً بہتر حالت میں ہیں۔
رپورٹ میں تمام برادریوں میں مختلف ذاتوں میں شادیوں کے بڑھتے ہوئے رجحان کی بھی نشاندہی کی گئی ہے۔ وزیر پونم پربھاکر نے کہا کہ وفاقی حکومت، جس نے پہلے ملک گیر ذات پات کی مردم شماری کو ناقابلِ عمل قرار دیا تھا، اب تلنگانہ کی پہل کے بعد اسے کرانے پر رضامند ہو گئی ہے۔
حکومت نے اس رپورٹ کو اپنے سرکاری پورٹل پر عام کر دیا ہے تاکہ عوامی بحث اور فیڈ بیک حاصل کیا جا سکے، خاص طور پر پارلیمنٹ کے موجودہ سیشن کے پیشِ نظر تاکہ اس پر وسیع پیمانے پر گفتگو ہو سکے۔