اسرائیلی دفاعی کمپنی کا ریونت ریڈی کے بھائی کونڈا ریڈی کی کمپنی ٹیسراکٹ سے معاہدہ، تلنگانہ میں سیاسی تنازع
تلنگانہ میں ایک نئے سیاسی تنازع نے جنم لیا ہے، جہاں اپوزیشن نے الزام عائد کیا ہے کہ ایک اسرائیلی دفاعی کمپنی نے ٹیسراکٹ (Tesseract) نامی کمپنی کے ساتھ معاہدہ کیا ہے، جسے تلنگانہ کے چیف منسٹر اے ریونت ریڈی کے بھائی کونڈا ریڈی سے جوڑا جا رہا ہے۔
حیدرآباد: تلنگانہ میں ایک نئے سیاسی تنازع نے جنم لیا ہے، جہاں اپوزیشن نے الزام عائد کیا ہے کہ ایک اسرائیلی دفاعی کمپنی نے ٹیسراکٹ (Tesseract) نامی کمپنی کے ساتھ معاہدہ کیا ہے، جسے تلنگانہ کے چیف منسٹر اے ریونت ریڈی کے بھائی کونڈا ریڈی سے جوڑا جا رہا ہے۔
اپوزیشن کا کہنا ہے کہ اسرائیل کی جانب سے تلنگانہ میں سرمایہ کاری لانے کی کوششوں کے دوران ایک ایسی کمپنی کے ساتھ معاہدہ کیا گیا جو مبینہ طور پر چیف منسٹر کے بھائی سے وابستہ ہے۔ اس معاملے نے معاہدے کی شفافیت اور مفادات کے ٹکراؤ سے متعلق سوالات اٹھا دیے ہیں۔
الزامات کے مطابق ریونت ریڈی نے ڈیووس میں اسرائیلی وفد سے ملاقات کی تھی، جبکہ ان کے بھائی کونڈا ریڈی نے بھی اسرائیلی وفد کے نمائندوں سے الگ ملاقات کی۔ اس کے بعد اسرائیلی دفاعی کمپنی اور ٹیسراکٹ کے درمیان معاہدہ طے پایا۔
اپوزیشن جماعتوں نے سوال اٹھایا ہے کہ اگر اسرائیل سے تلنگانہ میں سرمایہ کاری آ رہی ہے تو اس معاہدے کے لیے چیف منسٹر کے بھائی سے مبینہ طور پر وابستہ کمپنی کا انتخاب کیوں کیا گیا۔
اس معاملے نے ٹیسراکٹ کو اراضی کی مبینہ الاٹمنٹ سے متعلق پرانے تنازع کو بھی دوبارہ اجاگر کردیا ہے۔ اپوزیشن کا الزام ہے کہ کانگریس حکومت نے ٹیسراکٹ کو ایسی اراضی الاٹ کی جس کی مالیت تقریباً 135 کروڑ روپے تھی، لیکن اسے مبینہ طور پر صرف 7 کروڑ روپے میں دیا گیا۔
اس سے قبل ریاستی وزیر دودھیلا سری دھر بابو نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے ٹیسراکٹ کمپنی اور کونڈا ریڈی کے درمیان تعلق سے متعلق الزامات کو مسترد کرنے اور حکومت کا موقف واضح کرنے کی کوشش کی تھی۔
اب اپوزیشن رہنماؤں نے اسرائیلی دفاعی کمپنی کے ساتھ ہونے والے تازہ معاہدے کو حکومت اور کونڈا ریڈی کی کمپنی کے درمیان مبینہ تعلق کا نیا ثبوت قرار دیا ہے۔
اپوزیشن نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ معاہدے، کمپنی کی وابستگی اور اراضی الاٹمنٹ سمیت تمام معاملات میں مکمل شفافیت اختیار کی جائے۔
دوسری جانب، حکومت اور متعلقہ کمپنیوں کی جانب سے تازہ الزامات پر تفصیلی ردعمل سامنے آنا باقی ہے۔