پیغامِ رحمتِ عالم ﷺ ممبئی میں چار اہم سماجی مسائل پر سمپوزیم
قانون کے ساتھ ضمیر کی بیداری بھی ناگزیر، دختر کشی، خودکشی، نشہ آوری اور ماحولیاتی آلودگی کے خلاف اجتماعی جدوجہد پر زور
قانون کے ساتھ ضمیر کی بیداری بھی ناگزیر، دختر کشی، خودکشی، نشہ آوری اور ماحولیاتی آلودگی کے خلاف اجتماعی جدوجہد پر زور
ممبئی : وحدتِ اسلامی ہند کے زیرِ اہتمام اسلام جِم خانہ میں ’’پیغامِ رحمتِ عالم ﷺ‘‘ کے عنوان سے چار اہم سماجی مسائل، دختر کشی، خودکشی، نشہ آوری اور ماحولیاتی آلودگی—پر خصوصی سمپوزیم منعقد کیا گیا۔ مقررین نے قرآن و سنت کی روشنی میں ان مسائل کے اسباب اور ممکنہ حل پر اظہارِ خیال کرتے ہوئے کہا کہ محض قوانین کا نفاذ کافی نہیں، بلکہ انسانی ضمیر، اخلاقی شعور اور احساسِ جواب دہی کو بیدار کرنا بھی ناگزیر ہے۔ سمپوزیم میں سینکڑوں افراد نے شرکت کی۔
وحدتِ اسلامی ہند کے کل ہند امیر محمد ضیاء الدین صدیقی نے کہا کہ سماجی برائیوں کے خاتمے کے لیے قانون سازی ضروری ہے، تاہم ضمیر بیدار نہ ہو تو قانون کا اثر محدود رہتا ہے۔ انہوں نے دختر کشی کے رجحان پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ معاشرے میں آج بھی بیٹی کو بوجھ سمجھنے کی ذہنیت پائی جاتی ہے۔ ان کے مطابق، رسول اللہ ﷺ نے بیٹی کو رحمت اور عورت کو عزت و وقار عطا کرنے والی تہذیب کی بنیاد رکھی۔
مہمانِ خصوصی سنیتا ارالیکر نے اپنی زندگی کے دردناک تجربات بیان کرتے ہوئے کہا، ’’میں خود دختر کشی کی ایک زندہ مثال ہوں۔‘‘ انہوں نے بتایا کہ ان کے والد نے انہیں زمین میں زندہ دفن کر دیا تھا، تاہم ان کے نانا نے ان کی جان بچائی اور غربت کے باوجود ان کی پرورش کی۔ انہوں نے سونوگرافی کے غلط استعمال، جنس کی بنیاد پر اسقاطِ حمل اور بیٹی کو معاشی بوجھ سمجھنے والی ذہنیت کے خلاف سماجی بیداری اور اجتماعی جدوجہد کی ضرورت پر زور دیا۔
وحدتِ اسلامی ہند کے معتمدِ عمومی ڈاکٹر محمد انیس نے کہا کہ محض علم انسان کو صالح نہیں بناتا؛ علم کے ساتھ ایمان اور ہدایت بھی ضروری ہیں۔ ہیروشیما اور ناگاساکی کی مثال دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اخلاق اور ہدایت سے محروم علم انسانیت کی خدمت کے بجائے تباہی کا ذریعہ بن سکتا ہے۔
ڈاکٹر الیاس خان نے ماحولیاتی آلودگی کو اخلاقی اور روحانی مسئلہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ زمین، پانی اور قدرتی وسائل انسان کی مطلق ملکیت نہیں، بلکہ اللہ کی امانت ہیں۔ انہوں نے مادہ پرستی اور منافع پرستی کو ماحولیاتی بحران کی بنیادی وجوہ میں شمار کیا۔
خودکشی کے موضوع پر پروفیسر ابراہیم خلیل عابدی نے کہا کہ اسلام انسان کو مایوسی کے حوالے نہیں کرتا؛ اللہ کی رحمت اور توبہ کا دروازہ ہمیشہ کھلا رہتا ہے۔ انہوں نے انسانی جان کو اللہ کی عطا اور امانت قرار دیتے ہوئے مشکلات کا مقابلہ امید، صبر اور حوصلے کے ساتھ کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔
ڈاکٹر علی اکبر گھبرانی نے نشہ آوری کے بڑھتے ہوئے رجحان پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ 13 سے 19 سال کی عمر شخصیت سازی کا نہایت حساس مرحلہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ نوجوانوں کو محض نصیحت کی نہیں، بلکہ والدین کے عملی کردار اور مثبت نمونوں کی بھی ضرورت ہے۔
پروگرام کا آغاز یحییٰ امروز صدیقی کی تلاوتِ قرآن سے ہوا، جبکہ احمد ابراہیم خان نے جگن ناتھ آزاد کا سلام پیش کیا۔ اسلام جِم خانہ کے چیئرمین ایڈووکیٹ یوسف ابراہانی نے سنیتا ارالیکر کی گل پوشی کی۔ اس موقع پر دختر کشی کے خلاف ان کی جدوجہد پر مبنی ویڈیو اور چاروں موضوعات سے متعلق اہم اعداد و شمار بھی پیش کیے گئے۔ تقریب تقریباً تین گھنٹے جاری رہی اور دعا و عشائیے کے ساتھ اختتام پذیر ہوئی۔